انڈیا دریائے چناب پر ڈیم کا ڈیزائن بدلنے پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا نے دریائے چناب پر مجوزہ ’میار پن بجلی‘ منصوبے کے ڈیزائن کی تبدیلی پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

یہ بات پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ نے دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازع پر ہونے والے مذاکرات کے بعد کہی۔

پاک بھارت آبی تنازع پر انڈس واٹر کمشنرز کا 2 روزہ اجلاس منگل ختم ہوا جس میں دس رکنی انڈین وفد کی سربراہی انڈین انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کر رہے تھے۔ تقریباً دو سال بعد منعقد ہونے والے ان مذاکرات میں دریائے چناب پر تین متنازع آبی منصوبوں میار، پکال دل، لوئر کلنائی کے ڈیزائن پر بات چیت کی گئی۔

سندھ طاس معاہدے میں کوئی تبدیلی قبول نہیں: پاکستان

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے وفد کی قیادت کرنے والے انڈس واٹر کمیشنر آصف بیگ نے کہا کہ لوئر کلنائی منصوبے پر 'انڈیا نے پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے اور امید ہے کہ جلد مفاہمت ہو جائے گی'۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'پکال گل منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے'۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہزار میگاواٹ کے پکال گل منصوبے کے 'سپل ویز اور اس کی سٹوریج' پر پاکستان کو سخت اعتراضات ہیں۔ جبکہ ایک سو بیس میگاواٹ کا میار پن بجلی منصوبہ 'سندھ طاس معاہدے کی سخت خلاف ورزی تھی'۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے دیگر دونوں منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی۔ پاکستان نے ان منصوبوں پر سندھ طاس معاہدے کے تحت اعتراضات سے انڈیا کو آگاہ کر دیا ہے۔

انڈس واٹر کمشنرز کی سطح کے مذاکرات میں مون سون کی بارشوں سے متعلق پیشگی اطلاعات اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کے اعدادوشمار دینے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ کمیشن کی اگلی نشست دہلی میں رواں سال اگست میں متوقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان اور انڈیا میں سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا

مذاکرات میں 'بوقت ضرورت، سود مند اور مؤثر' مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ آصف بیگ کے مطابق انڈیا نے پاکستان کو 'برفباری کا موسم ختم ہونے کے بعد' کشن گنگا کا دورہ کرانے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔

مذاکرات میں موجود انڈین وفد نے کوئی موقف نہیں دیا جبکہ آصف بیگ کے مطابق مذاکرات کے منٹس کا مسودہ انڈین وفد نےمانگا ہے جس کو 'انڈین حکومت کو دکھانے کے بعد جاری کیا جائے گا۔‘ آصف بیگ کا کہنا تھاکہ انڈین وفد آئندہ ماہ واشنگٹن میں ہونے والے آبی مذاکرات کے بارے میں 'بات چیت کا خواہشمند تھا تاہم پاکستان نے کشن گنگا کا معاملہ زیر بحث لانے سے انکار کر دیا'۔ ان کے مطابق پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ 'رتلے اور کشن گنگا کا فیصلہ ثالثی عدالت میں ہی ہو گا'۔

آصف بیگ کا مزید کہنا تھا کہ انڈیا چاہتا ہے کہ پاسکتان سندھ طاس معاہدے کی بعض شقوں پر نرمی اختیار کرے تاہم ہم ایسا نہیں کریں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے مطابق گیارہ اپریل سے واشنگٹن میں ورلڈ بنک کی زیر نگرانی کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیکرٹری سطح پر مذاکرات ہوں گے۔

انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے ورلڈ بینک کو ثالتی کرنے کے لیے رجوع کیا تھا۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت بیاس، راوی اور ستلج کا پانی انڈیا جبکہ دریائے چناب ،جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔

اسی بارے میں