پیپلز پارٹی نے مردم شماری کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

  • 20 مار چ 2017
مردم شماری تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان میں 19 سال بعد 15 مارچ سے مردم شماری کا آغاز ہوا ہے

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے مردم شماری کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے اسے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

اس درخواست میں وفاقی حکومت اور وفاقی ادارۂ شماریات کو فریق بنایا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس بارے میں نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں مردم شماری کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں کیونکہ اس میں معلومات تک رسائی جیسے بنیادی حق کو خفیہ رکھا گیا ہے۔‘

مردم شماری پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات

٭ مردم شماری اور کچی پینسل

٭ مردم شماری میں فوج کا کردار

انھوں نے کہا کہ موجودہ طریقہ کار میں شفافیت نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ سارا عمل ہی مشکوک ہوجاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ مردم و خانہ شماری میں جو معلومات اکھٹی کرکے مرتب کی جائیں، انھیں ساتھ ہی ساتھ ویب سائٹ پر شائع کیا جاتا رہے تاکہ عوام جان سکیں کہ ان کے علاقے میں ہونے والی خانہ شماری میں کتنے گھر سامنے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرحت اللہ بابر نے مردم شماری کے طریقۂ کار پر خدشات کا اظہار کیا ہے

اس طریقے پر اعتراض کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ لاعلم رہیں اور تمام معلومات اسلام آباد روانہ کردی جائیں۔‘

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ’اگر میں بحیثیت شہری مردم شماری کرنے والے عملے کو معلومات فراہم کرتا ہوں تو میرے پاس بھی اس کا ثبوت موجود ہونا چاہیے، یہ نہ ہو کہ میں معلومات فراہم کردوں اور مجھے ایک سال بعد علم ہو کہ میرے حوالے سے ریکارڈ میں شامل معلومات وہ نہیں جو میں نے فراہم کی تھیں۔ اسی لیے ایک کاؤنڑ فائل کا وجود لازمی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے ساتھ سندھ کو بھی اس عمل پر اعتراض ہے کیونکہ اس میں افغان مہاجرین کے لیے علیحدہ سے کوئی خانہ نہیں ہے اور ان صوبوں میں تو اس وجہ سے کئی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے عمل کا بہت قریب سے بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پہلا مرحلہ 15 اپریل کو مکمل ہو جائے گا

خیال رہے کہ کئی سیاسی و انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا کرنے کے بعد پاکستان میں 19 سال بعد 15 مارچ سے مردم شماری کا آغاز ہوا ہے۔

مردم شماری سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر پالیسیاں مرتب ہوتی ہیں، جبکہ ان ہی اعداد و شمار پر کسی بھی شہر اور صوبے میں ترقیاتی کاموں سمیت فنڈز کا اجرا بھی کیا جاتاہے۔

تاہم مردم شماری کے آغاز ہی سے مختلف حلقوں کی جانب سے ناراضگی اور تحفظات آنا شروع ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کے مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 اپریل تک مکمل ہوجائے گا، جبکہ دوسرے مرحلے کا آغاز 25 اپریل سے ہوگا جو 25 مئی تک جاری رہے گا۔

مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں 87 اضلاع کو شمار کیا جائے گا، جبکہ مردم شماری کی رپورٹس 2 ماہ میں مکمل کرلی جائیں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں