پاکستان پانی پر اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا: خواجہ آصف

  • 20 مار چ 2017
Image caption پاکستان انڈیا انڈس واٹرکمیشن کے مابین دو روزہ مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہوگئے ہیں

پاکستان کے وفاقی وزیر پانی اور بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کے متعلق اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ ان کے مطابق کشن گنگا پن بجلی منصوبے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ 'پاکستان کے حق' میں ہے اور وہ اس پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔

خواجہ آصف نے آج اسلام آباد میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر بات چیت کا آغاز 'انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے'۔

پاکستان انڈیا انڈس واٹرکمیشن کے مابین دو روزہ مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہوگئے ہیں۔ انڈین انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا دس رکنی انڈین وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنرز کی سطح کے مذاکرات میں دریائے چناب پر تین متنازع آبی منصوبوں پکال گل، لوئر کلنائی کے ڈیزائن پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ جبکہ واشنگٹن میں اپریل میں ہونے والے سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'گیارہ اپریل سے واشنگٹن میں ورلڈ بنک کی زیر نگرانی کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیکریٹری سطح کے مذاکرات پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ کے رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھائے اور ورلڈ بینک کو ثالثی کرنے کے لیے رجوع بھی کیا تھا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کےدرمیان آبی تنازعات پر بات چیت میں عالمی بنک اور امریکہ نے کردار ادا کیا۔

اسلام آباد میں ہونے والے دوروزہ مذاکرات میں انڈیا کے طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔

اعتراضات کیا ہیں؟

وفاقی وزیر پانی اور بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ دریائے چناب پر بننے والے تینوں منصوبوں (پکال گل ، لوئر کلنائی) کا ڈیزائن شیئر کیا جائے۔ ’اگر ہمارے مفادت کو نقصان پہنچ رہا ہوا تو ہم اس کے ڈیزائن پر اعتراض بھی کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ تینوں منصوبے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور 'پاکستان کو ڈیزائن دکھائے بغیر انڈیا ان پر کام شروع نہیں کر سکتا۔‘

پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت بیاس، راوی اور ستلج کا پانی انڈیا جبکہ دریائے چناب ،جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔

خواجہ آصف نے کہا ہے کہ رتلے پراجیکٹ سے متعلق بھی ان کا یہی مطالبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ رتلے پراجیکٹ کے حوالے سے پاکستان نے ڈیڑھ سال میں تیاری مکمل کر لی ہے اور 'رتلے کے ڈیزائن میں تبدیلی کے لیے پاکستان کی پوزیشن اب خاصی مضبوط ہو گئی ہے'۔

خواجہ آصف نے کہا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ مارچ 2018 میں آپریشنل ہو جائے گا۔ جو کشن گنگا کے باعث بجلی کی مد میں ہونے والے دس فیصد نقصان کو پورا کرے گا۔

اسی بارے میں