قانونی اصلاحات متعارف کرانا صوبوں کی ذمہ داری ہے: بیریسٹر ظفر اللہ

  • 20 مار چ 2017
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آرمی پبلک سکول میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے

وزیرِ اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے قانون و انصاف بیریسٹر ظفر اللہ خان نے فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق کہا ہے کہ قانونی اصلاحات متعاراف کرانا وفاق کی نہیں صوبوں کی ذمہ داری ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیریسٹر ظفر اللہ خان نے کہا ’قانونی اصلاحات لانا بنیادی طور پر صوبوں کا اختیار ہے، اس میں حکومت نے کیا کرنا ہے؟ جب بھی جرم ہوتا ہے تو پولیس حرکت میں آتی ہے، تحقیقات ہوں یا سزا کا معاملہ یہ تمام صوبائی معاملات ہیں۔‘

پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد دو ہزار پندرہ میں دو برس کے لیے نشینل ایکشن کے تحت فوجی عدالتیں قائم کی گی تھیں۔ بعض پاکستانی پارلیمانی اراکین نے اس وقت ان کے قیام کو وقت کی مجبوری قراردیا تھا۔ قوم سے وعدہ کیا گیا تھا کہ دو برس میں عدالتی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاہم سیاسی جماعتیں ایسا کرنے میں ناکام رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کے بل پر سیاسی جماعتوں کے درمیان ہفتوں جاری رہنے والی لے دے کے بعد اب اتفاق رائے کے ساتھ بل کو آج قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔

Image caption فوج کے شبعہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں دو سو ستر سے زیادہ مشتبہ انتہاپسندوں کو سزائیں سنائی گئیں۔ جن میں سے ایک سو ساٹھ سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئ اور بیس سے زیادہ کو پھانسی دے دی گ

اس سوال پر کہ کیا سیاستدان ماضی کی طرح دو برس بعد پھر بے بسی کا رونا روئیں گے یا اصلاحات لائی جائیں گئی، بیریسٹر ظفر اللہ خان نے کہا ’میں سیاست کا طالب علم ہوں ، مستقبلیت کا نہیں۔‘

اس سلسلے میں کہ کیا اصلاحات لانا حکومت کے ہاتھ میں نہیں، بیریسٹر ظفر اللہ خان کا کہنا تھا ’یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ برطانیہ میں بھی ملٹری ٹرائلز ہوتے ہیں جہاں اعلی سطح کی عدالتی اصلاحات نافذ ہیں اور امریکہ جو دنیا کی بہترین جمہوریت ہے وہاں پر بھی ایسا ہوتا ہے۔‘

تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ’شاید فوجی عدالتوں کی مستبقل میں ضرورت نہ پڑے۔ ضرب عضب نے انتہاپسندوں کی کمر توڑی ہے، اب دوسرے مرحلے میں آپریشن ردالفساد جاری ہے۔ مزید اصلاحات بھی آئیں گی۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگلے دو برس میں ہم اس سے بہت بہتر جگہ پر ہوں گئے۔‘

ایک طرف وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی برائے قانون بیریسٹر ظفر اللہ پاکستان میں حالات بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے رہے تو دوسری طرف حالات کی مجبوری کو بھی جواز بناتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاید فوجی عدالتوں کی مستبقل میں ضرورت نہ پڑے: بیریسٹر ظفر اللہ

اس سلسلے میں انھوں نے کہا ’میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو فوجی عدالتوں کے خلاف ہیں لیکن ہم مجبور ہیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ کوئی چارہ کار موجود نہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع پر تو پہلے سے ہی راضی تھیں مگر کچھ سیف گارڈز شامل کرنے پر بحث جاری تھی۔ ہم نے پیپلز پارٹی کو یہی کہا کہ یہ سیف گارڈز پاکستان کے آئین اور قانون میں پہلے سے شامل ہیں مگر پی پی پی چاہتی تھی کہ ہم انہیں اس مسودہ کا حصہ بنائیں۔‘

اس پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا ’پی پی پی کہتی تھی کہ قانون شہادت لگے تو ہم نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں پہلے سے لکھا ہے کہ قانون شہادت لگے گا تو لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ وہ چاہتے تھے جوڈیشل رویو کی اجازت ہو تو ہمارا موقف تھا کہ سپریم کورٹ نے تو پہلے سے ہی کہہ رکھا۔ اس طرح کی معمولی چیزیں تھیں تو اصل میں ہمارا کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا۔‘

دو ہزار پندرہ میں ملک بھر میں گیارہ فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ فوج کے شبعہ تعلقات عامہ کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں دو سو ستر سے زیادہ مشتبہ انتہاپسندوں کو سزائیں سنائی گئیں ۔ جن میں سے ایک سو ساٹھ سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت سنائی گئ اور بیس سے زیادہ کو پھانسی دے دی گی ہے۔

بیشتر ماہرین فوجی عدالتوں کی کارروائی خفیہ رکھے جانے پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جرم کی نوعیت کا نہ بتانا یا اس حوالے سے لاعلمی کہ مجرم کو وکیل تک رسائی کا آئینی حق حاصل ہوا یا نہیں وہ نکات ہیں جو فوجی عدالتوں کی کارروائی کو مشوک بناتے ہیں۔ فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی بیشتر سزاؤں کو اعلی عدالتوں میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں