پاکستان کی پہلی خاتون سیکریٹری خارجہ

  • 20 مار چ 2017
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تہمینہ جنجوعہ ملک کی انتیسویں خارجہ سیکریٹری ہیں

تہمینہ جنجوعہ پیر کو پاکستان کی پہلی خاتون خارجہ سیکریٹری بن گئی ہیں۔ انھوں نے اعزاز چوہدری کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا ہے جنہیں امریکہ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

ترتیب کے اعتبار سے تہمینہ جنجوعہ ملک کی انتیسویں خارجہ سیکریٹری ہیں۔

اوسط قامت اور دھیمے لہجے کی حامل دھان پان سی تہمینہ جنجوعہ میں سفارتکاروں کا روایتی کروفر دکھائی نہیں دیتا۔ ان کی ایک رفیقہ کار کا کہنا ہے کہ قدامت پسند ایشیائی معاشروں سے اہم عہدوں پر آنے والی خواتین، اپنے مقام و منصب کے حوالے سے قدرے جارحانہ رویہ اختیار کرتی ہیں یا خود حفاظتی کے حصار میں بند ہو جاتی ہیں لیکن ان دونوں صورتوں کے برعکس تہمینہ جنجوعہ کی شخصیت میں خاص قسم کی سادگی اور اعتدال ہے۔ وہ نہ رعب جھاڑتی ہیں اور نہ ہی غیر ضروری انکساری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

پیشہ وارانہ سفارتکاری کے اسرار و رموز سمجھنے کے علاوہ انہیں، زبانوں، تہذیب و ثقافت، تاریخ اور موسیقی سے شغف ہے۔ ان کی کھلی ڈلی گفتگو، بے تکلف لہجہ اور موضوع پر ارتکاز جیسی خوبیوں نے انہیں ایک اچھا سفارتکار بننے میں بھی مدد دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FOREIGN OFFICE
Image caption 1990 میں وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے پاکستانی مشن میں سیکنڈ اور فرسٹ سیکریٹری رہی ہیں

تہمینہ جنجوعہ ملک کی پہلی خاتوں خارجہ سیکرٹری تو ہیں ہی تاہم ان کی یہ انفرادیت بھی ہے کہ اپنے کیرئیر میں وہ نئی دہلی، واشنگٹن، لندن، ریاض یا کسی اور اہم دارالحکومت میں ملک کی سفیر نہیں رہیں۔ پاکستان اور چین کے خاص تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر کچھ برس پہلے تک بیجنگ میں پاکستان کے سفیر کو ہی ملک کا آئندہ خارجہ سیکریٹری سمجھا جاتا تھا ۔یہ روایت ختم ہوئی تب بھی یہی سمجھا جاتا تھا کہ بیجنگ نہ سہی، خارجہ سیکریٹری کو کسی اور اہم دارالحکومت کا تجربہ تو ہونا چاہیے لیکن اب یہ ترجیح بھی گئی۔

تہمینہ جنجوعہ اٹلی، البانیا، سان مرینو، کروئشیا جیسے ملکوں میں سفارتی ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں۔ کثیرالاقومی سفارتکاری کو تہمینہ جنجوعہ کی خاص استعداد سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ ایک آدھ کے سوا ان کی سب ہی بیرون ملک تعیناتیاں اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں میں کی گئیں۔ 1990 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے پاکستانی مشن میں سیکنڈ اور فرسٹ سیکریٹری بننے سے ان کا جو سفر شروع ہوا وہ خارجہ سیکریٹری بننے پر رکا۔ اس درمیانی عرصہ کے دوران وہ مختلف عہدوں پر، مختصر وقفوں دفتر خارجہ میں متعین رہیں۔

اقوام متحدہ کے دفاتر میں ان کی یہ تعیناتیاں ان کی خوبی بھی ہے اور خامی بھی۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں میں تو ان کی اس مہارت کا سکہ چل سکتا ہے لیکن دو طرفہ سفارتکاری، خصوصاً امریکہ جیسے دوست اور بھارت جیسے حریف کے ساتھ تعلقات نبھانا ان کیلیے ایک چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ لیکن ان کیلیے ایک چیلنج، اس کے علاوہ بھی ہے اور وہ ہے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی۔ دفتر خارجہ کے افسران کی نجی محفلوں میں طارق فاطمی کو ’سپر فارن سیکریٹری‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ فاطمی، نواز شریف کی گزشتہ وزارت عظمیٰ کے آخری ایام میں سیکریٹری خارجہ نہیں بن پائے۔ اگرچہ اب وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ پرانی خلش غالباً ان کے تحت الشعور میں کہیں موجود ہے اس لیے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی معاون خصوصی کے بجائے کبھی کبھار ’سپر فارن سیکریٹری‘ بن جاتے ہیں۔

تہمینہ جنجوعہ 2011 میں دفتر خارجہ کی ترجمان بھی رہیں ہیں اور اسلام آباد کے صحافیوں کیلیے وہ جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ صحافیوں کو وہ ایک بے تکلف اور خبر دینے والی ترجمان کے طور پر یاد رہیں گی۔