سپاٹ فکسنگ سکینڈل: پانچ کھلاڑیوں کےنام ای سی ایل میں شامل

شرجیل خان، خالد لطیف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ای سی ایل پر ڈالے جانے والے کھلاڑیوں میں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان شامل ہیں

وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث تمام کرکٹرز کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی منظوری دے دی۔ وزیرِ داخلہ نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ سپاٹ فکنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان بکیز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں۔

فیصلہ وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی زیرِ صدارت اعلیٰ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، نادرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے اور وزارتِ داخلہ کے سینیئر افسران شریک تھے۔

٭ سپاٹ فکسنگ: ’ملوث کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائیں‘

٭ میچ فکسنگ تحقیقات، برطانیہ میں بھی دو افراد گرفتار

ای سی ایل پر ڈالے جانے والے کھلاڑیوں میں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان شامل ہیں۔

سپاٹ فکسنگ کے معاملے پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے وزیرِ داخلہ کو بتایا گیا کہ خالد لطیف اور محمد عرفان نے ایف آئی اے کو اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑی منگل کے روز اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں گے۔

وزیرِ داخلہ نے پی ٹی اے حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ کرکٹ میں جوا لگانے اور اس کو فروغ دینے والی تمام ویب سائٹس کو بھی بند کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں تاکہ اس گھناؤنے کاروبار کا سدباب کیا جا سکے۔

وزیرِ داخلہ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ سپاٹ فکسنگ معاملے کی ہر پہلو سے شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ پاکستان کا نام بدنام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش میں 'زیرو ٹالیرنس' کی پالیسی اختیار کی جائے اور کسی بھی ملوث شخص کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔

ایف آئی اے حکام نے نادرا بلڈنگ کیس پر اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ داخلہ کو آگاہ کیا۔

وزیرِ داخلہ نے ہدایت دی کہ آئندہ نادرا دفاتر کے لیے عمارتیں کرائے پر حاصل کرنے کی بجائے اپنی عمارتیں تعمیر کرنے کو ترجیح دی جائے۔

وزیرِ داخلہ نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ نادرا کی عمارتوں کے لیےسرکاری زمینوں کی نشاندہی کی جائے اور عمارتوں کی تعمیر کے لیے مرحلہ وار بلڈنگ پلان ترتیب دیا جائے۔

اجلاس میں برطانوی ہوم سیکریٹری کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں کیے جانے والے سیکیورٹی انتظامات اور دورے کے دوران امیگریشن، کاؤنٹر ٹریرازم اور ہیومن ٹریفکنگ جیسے مختلف امور میں تعاون کے فروغ کے لیے ممکنہ دو طرفہ معاہدوں پر غور کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی بارے میں