فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption قومی اسمبلی کا آج کا اجلاس پاکستانی وقت کے مطابق چار بجے منعقد ہوگا

پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی نےآئین میں اٹھائیسویں ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی ہے۔

آئین اور آرمی ایکٹ میں ہونے والی ان ترامیم کے بعد ملک میں فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع ہو جائے گی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ حکومتی اتحاد میں شامل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور آزاد رکنِ اسمبلی جمشید دستی نے اس کی مخالفت نے ووٹ دیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک فوجی عدالتوں میں یہ توسیع اسی روز یعنی سات جنوری 2017 سے تصور کی جائے گی جب ان کے سابقہ مدت ختم ہوئی۔ یہ ترمیمی بل بدھ کو سینیٹ میں پیش کیا جائے گا اور امکان ہے کہ وہاں سے بھی کثرتِ رائے سے منظور کروا لیا جائے گا

یاد رہے کہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کی طرف سے فوجی عدلتوں کی مدت میں توسیع سے متعلق ترمیمی بل پیش ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔ اس بل میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے چار تجاویز کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں گرفتاری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اُس کو اُن الزامات کے بارے میں بھی بتانا ہے جن الزامات کی وجہ سے اُسے گرفتار کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ملزم کو پسند کا وکیل کرنے اور فوجی عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی کے دوران قانون شہادت پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ فوجی عدالتوں کے قانون سے پاکستان کو محفوظ بنانے کی باتیں محض بہلاوا ہے۔

پیر کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اُنھوں نے اس عرصے کے دوران کوئی جامع پالیسی نہیں بنائیں جس سے موجودہ عدالتی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا۔

اسی بارے میں