سلیم اللہ کی مسکراہٹ بلا وجہ نہیں!

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پچھلے دو دن سے سلیم اللہ ہر کسی سے مسکرا مسکرا کے مل رہا ہے ۔کیوں ؟ یہ میں تھوڑی دیر میں بتاؤں گا۔ میں اور سلیم اللہ سکول فیلو ہیں۔ مگر میٹرک کے بعد سلیم اللہ نے پڑھائی چھوڑ دی۔ اس کے والد مولوی نصیب اللہ ہمارے محلے کی مسجد میں امام تھے۔ سب ہی عزت کرتے تھے کیونکہ وہ سب کو کہتے تھے کہ تم بھلے شیعہ ہو کہ سنی، بس نماز پڑھا کرو، بھلے ہاتھ کھول کے پڑھو کہ باندھ کے۔ کسی بھی غیر مسلم کے عقیدے کو برا مت کہو، وہ بھی اللہ کا بندہ ہے ۔ اگر وہ تمہیں کوئی دکھ نہیں پہنچا رہا تو تم بھی اسے دکھ نہ پہنچاؤ۔ بے شک تم اللہ سے بڑے منصف نہیں۔

کوئی دس برس پہلے مولوی نصیب اللہ صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔ اور ان کی جگہ ان کے بیٹے سلیم اللہ نے سنبھالی۔ مگر باپ بیٹے میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ کہاں مولوی نصیب اللہ صاحب کا تعصب دشمن وعظ اور کہاں اسی منبر پر ہر جمعہ کو بیٹھ کر سلیم اللہ بلا ہچکچکاہٹ کہتا ہے کہ پاکستان صرف اور صرف مسلمانوں کے لیے بنا ہے۔ ہندوؤں کے لیے ہندوستان ہے ۔ ہم کرسچنز کو برداشت کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اہلِ کتاب ہیں اور ملک کو صفائی کرنے والے بھی تو چاہئیں۔

سلیم اللہ کھلم کھلا کہتا ہے کہ اقلیتوں کو اگر اس دھرتی سے اتنی ہی محبت ہے تو انہیں مسلمان ہو جانا چاہیے تاکہ ہم انھیں پوری عزت و احترام دے سکیں۔ پاکستان کا مطلب ناپاک لوگوں کی زمین ہرگز ہرگز نہیں۔

سلیم اللہ نے پچھلے سات برس میں شہر کے دو متروک مندروں کو مسجد میں تبدیل کرنے کی تحریک چلائی اور کئی نوجوانوں کو گرویدہ بنا لیا ۔ اس نے نوجوانوں کو اس دلیل تلے جمع کیا کہ جب ان مندروں کو ساٹھ برس سے تالہ لگا ہوا ہے تو کیوں نہ اس جگہ کو پاک بنایا جائے۔شہر کی ہندو پنچائت نے سلیم اللہ کے قبضے کو سات برس سے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے مگر فائل تاریخ پے تاریخ کے بوجھ تلے دبی جا رہی ہے ۔ ہر نیا جج اگلے پر ٹال رہا ہے۔ سلیم اللہ کہتا ہے کسی مائی کے لال میں ہمت ہے جو ان مسجدوں کو اب مندر کہہ سکے اور ان کا قبضہ لے سکے۔

پچھلے برس سلیم اللہ کی واہ واہ ہوگئی جب ایک کرسچن لڑکی کو چار ہتھیار بند لوگ یہ کہہ کر اس کے پاس لائے کہ وہ اپنا دھرم بدلنا چاہتی ہے۔ سلیم اللہ نے اسے کلمہ پڑھایا اور پھر اگلے دن ان میں سے ایک ہتھیار بند کے ساتھ اس کا نکاح بھی پڑھا دیا۔ لڑکی کے خاندان نے اوپر سے نیچے تک خطوط لکھے کہ لڑکی کا دھرم زبردستی بدلوایا گیا ہے۔ لیکن سلیم اللہ کا کہنا ہے کہ کوئی زبردستی نہیں کی گئی۔ لڑکی بیس سال کی ہے اور اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہے۔ ایک دن لڑکی کے گھر والوں نے خاموشی سے کیس واپس لے لیا اور غائب ہو گئے۔

سلیم اللہ پر ہر محرم میں سرکار کی طرف سے یہ پابندی بھی لگائی جاتی ہے کہ وہ چالیس دن تک کسی اور شہر کا سفر نہیں کرے گا۔کیونکہ وہ جہاں بھی جاتا ہے اس کی شعلہ بیانی کے سبب شیعہ سنی جھگڑا بڑی مشکل سے رکتا ہے۔ مگر سلیم اللہ اپنے لاٹھی ڈنڈے والے جوانوں کے جلو میں یہ پابندی ہر سال دھڑلے سے توڑتا ہے اور سرکار اسے وارننگ پر وارننگ دیتی رہ جاتی ہے۔ اس جرات نے سلیم اللہ کی شخصی دھاک میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے نو منتخب وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ حلف اٹھانے کے بعد ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ

اب آپ پوچھیں گے کہ سلیم اللہ اتنا نڈر کیوں ہے؟

اس کا جواب مجھ سے نہیں ان لوگوں سے لیجیے جنھوں نے پچھلے عام انتخابات میں اس کی دھواں دار تقریروں اور کلاشنکوف لہراتے ہوئے، ملک کو ہر کافریت و بدعت سے پاک کرنے کے لئے زندگی وقف کر دینے کے وعدے پر خون گرما گرما کر پہلی بار میاں نصیر الدین کے مقابلے میں تین سو اکیس ووٹوں کے فرق سے جتوا کر بطور آزاد امیدوار سلیم اللہ کو صوبائی اسمبلی میں پہنچایا۔

سلیم اللہ کو بہت کم لوگوں نے مسکراتے دیکھا ہے۔ ہر شخص اس کے سامنے آتا ہے تو بِچھا چلا جاتا ہے، بھلے پیٹھ پیچھے کچھ بھی کہتا پھرے۔

مگر پچھلے دو دن سے سلیم اللہ ہر کسی سے مسکرا مسکرا کر مل رہا ہے۔ میں نے کان میں پوچھاخیریت تو ہے ؟ کہنے لگا پوری پلاننگ ہو چکی ہے۔ پاکستان پیور مسلم فرنٹ نے کہا ہے کہ اگر میں انہیں جوائن کر لوں تو اگلے الیکشن کے بعد میں ان کی طرف سے وزارتِ اعلی کا امیدوار پکا پکا۔

میں نے کہا سلیم ایک بار صوبائی اسمبلی کا رکن بننے کے بعد کیا دن میں بھی خواب دیکھنے لگے ہو؟ کہنے لگا کیوں ؟ اگر پڑوسی ملک کے سب سے بڑے صوبے کی چیف منسٹری یوگی ادتیا ناتھ کو مل سکتی ہے تو میں مولوی سلیم اللہ کیوں خواب نہیں دیکھ سکتا ؟ اور یہ وزارتِ اعلی بھی کیا شے ہے؟