'وزیر اعظم اب ووٹ نہیں ڈال سکتے'

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کی قومی اسمبلی

آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں غیر معمولی رش تھا۔ وجہ یہ تھی کہ منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں فوجی عدالتوں میں مزید توسیع کے لیے آئینی ترمیم پیش ہونا تھی۔

اور تو اور وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی آج ایوان میں حاضر ہوئے جن کے بارے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم صرف اسی وقت پارلیمنٹ کو اہمیت دیتے ہیں جب وہ کسی مشکل کا شکار ہوں۔

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا بل منظور

فوجی عدالتوں میں توسیع پر تنازع کیا؟

حکومتی بینچوں پر بھی رش قابل دید تھا، شاید اس کی وجہ وزیر اعظم کی ایوان میں موجودگی تھی ورنہ عام دنوں میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک یا دو وفاقی وزارء اور چند ارکان موجود ہوتے ہیں جبکہ اُن سے زیادہ تعداد میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کےاجلاس کی کارروائی میں شریک ہوتے ہیں۔

حکمراں جماعت کے اراکین اسمبلی نہ صرف وزیر اعظم میاں نواز شریف کو ایوان میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہے بلکہ وزیر اعظم سے بالمشافہ ملاقات کرتے رہے اور اُن کے ہاتھ میں پرچیاں بھی تھماتے رہے۔

حکومت آرمی ایکٹ میں ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کے معاملے میں اتنی جلدی میں دکھائی دیتی تھی کہ ترمیمی بل کے مسودے کی کاپیاں ارکان اسمبلی میں تقسیم کرنے کی بجائے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے مسودے کو خود ہی پڑھنا شروع کردیا۔ بات صرف یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ قومی اسمبلی کے سپیکر نے اس بل کی 'ریڈنگ' بھی شروع کردی۔

حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے ترمیمی بل کی کاپیاں نہ ملنے کا واویلا کیا گیا تو پھر سپیکر نے کارروائی کو روک کر ارکان اسمبلی میں کاپیاں تقسیم کروائیں۔

آرمی ایکٹ میں ترمیم اور فوجی عدالتوں میں توسیع سے متعلق جب آئینی ترمیم ایوان میں پیش کی جارہی تھی تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولا نا فضل الرحمن ایوان میں موجود نہیں تھے۔

حکمراں اتحاد میں ہی شامل ایک اور جماعت پختون خوا ملی عوامی پارٹی نے آرمی ایکٹ اور فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں توسیع کے بل پر اس کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔

اس آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر نے گنتی سے پہلے گھنٹیاں بجائیں تاکہ جو لوگ ایوان سے باہر ہیں وہ اندر اجائیں۔ اجلاس میں مغرب کی اذآن شروع ہوئی تو وزیر اعظم اپنے دیگر چند ساتھیوں کے ہمراہ ایوان سے چلے گئے۔

اس موقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید نے کہا کہ جو ارکان اسمبلی ایوان سے چلے گئے اُنھیں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم بھی اب ووٹ نہیں ڈال سکتے'۔ اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار دوڑ کر لابی میں گئے اور وزیر اعظم کو ساتھ لیکر آئے۔ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو اشارہ کیا کہ وزیر اعظم نماز پڑھنے کے لیے گئے تھے۔

فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر چونکہ حزب مخالف کی بڑی جماعتوں نے حمایت کی تھی اس لیے حکومتی بینچوں کے ارکان اور حزب مخالف کی جماعتوں کے ارکان آپس میں گھل مل گئے۔

جس وقت اس ترمیم پر رائے شماری ہو رہی تھی تو اس وقت ایوان میں وزیر اعظم سمیت 264 اراکین موجود تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس ترمیم کی حمایت کی ہے اور جب اس جماعت کے لوگ بھی لابی میں جارہے تھے تو وفاقی دفاع خواجہ محمد آصف تیزی سے لابی میں گئے جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی ڈاکٹر شریں مزاری کو دھکا لگا اور وہ اپنے منہ میں ہی بڑبڑانے لگیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں