مردم شماری: فارم ٹو اے کی عدم موجودگی پر سوالات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مردم شماری کے لیے تعینات عملے کے اراکین فوجی اہلکاروں کے ہمراہ فارم پُر کر رہے ہیں۔

ملک بھر میں جاری چھٹی مردم شماری کے دوران حکومت نے لوگوں کے سماجی حالات کی بارے میں معلومات اکٹھی کرنے والے فارم ٹو اے کو اس مشق کا حصہ نہیں بنایا ہے جس پر ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

بعض لوگوں نے اس فارم کی عدم موجودگی میں ہونے والی مردم شماری کی افادیت پر ہی سوالات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔

٭مردم شماری اور کچی پینسل

پاکستان میں مردم شماری فارم کے ساتھ پہلی بار فارم ٹو اے 1981 میں متعارف کروایا گیا تھا لیکن 1981 اور پھر 1998 کی مردم شماری میں اس فارم ٹو کا ڈیٹا سروے اور نمونے کے طریقہ کار کے ذریعے مرحلہ وار ہی اکھٹا کیا گیا۔ اس بارتوقع تھی کہ فارم ٹو اے کے ڈیٹا کو گھر گھر جا کے اکھٹا کیا جائِے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

فارم ٹواے کیا ہے؟

مردم شماری کے فارم ٹو سے منسلک ایک اور فارم ٹو اے میں شہریوں کی تعلیم، صحت، روزگار، زبان، نقل مکانی، اور مذہبی رجحانات سمیت معذوروں کی تعداد اورمعذوری کی نوعیت سمیت پیدائش واموات کی شرح جیسی اضافی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

ماہرِ بشریات وقاص سلیم کہتے ہیں کہ ’آپ کے معاشرے کے بنیادی خدوخال اور اسکی ضروریات اسی فارم سے واضح ہوتے ہیں اور پالیسی کی سطح پہ اس فارم کی افادیت ایک فرد کوشمارکرنے سے کہیں زیادہ ہے۔‘

اس ڈیٹا کو جمع کرنے کا کیا فائدہ ہوتا؟

ماہرِ بشریات وقاص سلیم سمجھتے ہیں کہ ’سروے کی بنیاد دراصل پوری آبادی کےایک مثالی نمونے پر مبنی ہوتی ہے ۔تو میرا نہیں خیال کہ سروے سےجو ڈیٹا آئے گا وہ مکمل معلومات دے سکے گا۔ اُس میں آپ ایک اچھا اندازہ ضرور کرتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی جامع نہیں ہوتا۔‘

لیکن ادارہ شماریات کے اہلکار حبیب اللہ کے مطابق ان مثالی نمونوں کی جانچ کے لیے شماریات میں استعمال ہونے والے سائنسی طریقے اپنائےجاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

2017 کی خانہ و مردم شماری میں فارم ٹو کیوں شامل نہیں کیا گیا؟

ادارہ شماریات کے اہلکار حبیب اللہ خان کے مطابق مردم شماری کے فارم 2 میں بنیادی معاشی اشاریوں پر مشتمل 12 سوالات ہیں جبکہ فارم 2 اے میں آبادی کےسماجی و معاشی رجحانات سے متعلق اضافی 33 سوالات ہیں۔

اندازوں کے مطابق اس کام کی انجام دہی میں 3 سے 4 ماہ لگتے اوراتنے وقت کےلیے فوج دستیاب نہیں تھی۔ اسی لیے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے فیصلہ کیا کہ ابھی اسے شامل نہ کیاجائے۔

ادارہ شماریات کے مطابق وہ دوسرے مرحلے میں سروے اور آبادی کے نمونوں کے ذریعے اپنے عملے سے یہ کام کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ماہرِ بشریات وقاص سلیم کے خیال میں ’مردم شماری کرنے والی ٹیم کے ساتھ 2 لاکھ فوجی اہلکارمصروف ہوں گے، ایسی صورتحال میں ایک بہت ہی جامع قسم کی مردم شماری ہونی چاہئیے تھی، کچھ عرصے کے بعد کیا آپ دوبارہ قومی خزانے بوجھ ڈالیں گے۔‘

مردم شماری میں فارم ٹو کی عدم شمولیت سے کیا ہوگا؟

وقاص سلیم کے مطابق ’2008 میں مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے وسائل کو مختص کرنے میں مسائل ہیں، حلقہ انتخاب کا تعین نہیں ہوپارہا، صحت کی بنیادی سہولیات کی نقشہ کشی (میپنگ) نہیں کرپارہے کہ کہاں پہ کون سی اور کتنی درکار ہے، آپ کو یہ نہیں پتا کہ کتنے اسکول چاہییں، آپ کو یہ اندازہ نہیں کہ آپ کے ملک میں کتنے معذور اور تیسری جنس والے افراد ہیں اوران کی کیا ضروریات ہیں اور ان کے لیے ہمیں کس طرح کی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’پچھلے 15، 20 سالوں میں پاکستان میں بہت ہی اہم تبدیلیاں آئی ہیں۔ پاکستان میں بہت عرصے سے جنگ چل رہی ہے، لوگ بےگھر ہورہے ہیں، بہت سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی یا بڑے شہروں کا رخ کررہے ہیں، اس سب کے بارے میں ہمارے پاس کوئی ڈیٹا نہیں ہے۔ جس کی وجہ آپ کو بدانتظامی اور وسائل کی عدم تقسیم کے بہت سارے مسائل نظر آتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ اپنی پالیسیوں کے اندر بھی تذبذب کا شکار ہیں، کیونکہ حکمرانوں کوخود ہی واضح نہیں ہے کہ وہ کیا کرنا چاہ رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس بنیادی ڈیٹا بھی نہیں ہے۔ اسی لیے بغیر فارم ٹو اے کے یہ بالکل ایک رائیگاں مشق ہوگی اور اس سے شہری اسی طرح نقصان اٹھاتے رہیں گے جیسے پہلے اٹھاتے رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کےاحکامات کےبعد ادارہ شماریات نے ملک میں جاری مردم شماری میں معذور افراد کاڈیٹا جمع کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں لیکن اُس میں صرف معذور افراد کی تعداد معلوم ہوسکےگی۔

اسی بارے میں