ہم سب کے لیے بس خاکروب کی نوکری

تحصیل بنوں کی میونسپل انتظامیہ کے ان دو بے چارے اہلکاروں کو، جنھوں نے خاکروبوں کی بھرتی کے لیے ایک اشتہار دیا تھا، سمجھ میں ہی نہیں آرہا ہوگا کہ انھوں نے ایسا کیا غلط کیا ہے جو ان کو معطل کیا گیا ہے؟ بھلا بتائیے کبھی آپ نے پاکستان میں کوئی خاکروب دیکھا ہے جو مسیحی یا ہندو نہ ہو۔ اس مذکورہ اشتہار میں بھی اگر اہلکار اپنی تخلیقی صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے ’شیعہ‘ کا اضافہ نہ کرتے تو شاید یہ معاملہ سوشل میڈیا پر اتنی پذیرائی حاصل نہ کرتا اور صوبائی حکومت کوئی قدم بھی نہ اٹھاتی۔

٭شیعہ افراد کو غیر مسلم شمار کرنے پر افسران معطل

٭عراق جانے کے منتظر شیعہ زائرین کا احتجاج

وطن عزیز میں جس تیزی کے ساتھ مختلف مذاہب، فرقے اور خیالات رکھنے والے سماج کے حصوں کو غیر مسلموں کے خانے میں ڈالا جارہا ہے، کوئی بعید نہیں کہ ملک میں بھاری اکثریت کے لئے صرف خاکروب کی ہی ملازمت باقی رہ جائے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ اس اشتہار میں شیعہ کو کیوں ڈال دیا گیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کسی بھی نوکری کے لیے مذہب یا فرقے کا خانہ ہونا ہی کیوں ضروری ہے کیا خاکروب ہونا کمتر ہونا ہے؟ کم ازکم عام طور پر ہم سب سمجھتے تو یہی ہیں چاہے اس کا اظہار کریں یا نہ کریں۔

پچھلے دنوں میں نے ایک اعلیٰ حضرت مولوی کا سوشل میڈیا پر چلنے والا ایک بیان دیکھا۔ جناب کے ویسے بھی بہت پیروکار ہیں، لیکن انھوں نے اپنے تازہ بیان سے وطن عزیز کے کروڑوں لوگوں کے دل جیت لیے ہوں گے۔

فرماتے ہیں یہودیوں، مسیحیوں، سکھوں اور ہندوؤں سے مسلمان کوئی تعلق نہیں رکھ سکتا۔

آپ پہلے یہ بھی فرما چکے ہیں کہ اسلام امن کا درس نہیں دیتا بلکہ غیرت کا درس دیتا ہے۔ ان کے بقول جو لوگ کہتے ہیں کہ قرآن امن کا درس دیتا ہے انھوں نے پاک کتاب کو سمجھا ہی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہزاروں شیعہ اور خاص طور پر ہزارہ لوگوں کو چن چن کر مارا گیا، لیکن ہم جلوس نکالتے ہیں شام اور فلسطین میں مسلمانوں کی ہلاکتوں کے خلاف۔ احمدیوں کی عبادت گاہیں جلائی جاتی ہیں اور ہم احتجاج کرتے ہیں امریکیوں کے خلاف، مسیحی برادری کے کلیساؤں پر حملے ہوتے ہیں، لیکن ہم آواز بلند کرتے ہیں بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر۔

ہمیں اپنے گھر میں جاری زیادتیاں نظر نہیں آتیں اور اگر آتی ہیں تو بھی ہمارے جذبات اس طرح امڈ نہیں آتے جیسے ہزاروں میل دور کے واقعات پر امڈ آتے ہیں۔ یہ ہمارے اندر کے تعصبات ہیں جو دہائیوں میں پروان چڑہے ہیں۔ یا یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ دہائیوں سے پروان چڑھائے گئے ہیں۔

اور اب یہ تعصبات ہماری سیاست اور ریاست کا اہم ستون بن گئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے حال میں بیان دیکر مولوی حضرات سے کہا کہ دین کا کوئی متبادل بیانیہ دیں۔ لیکن دوسرے ہی روز حکم دیتے ہیں کہ ان لوگوں اور ویب سائٹوں کے خلاف کارروائی کریں جو مبینہ طور پر توہین مذہب کے مرتکب ہورہے ہیں۔ لیکن توہین مذہب کی تشریح کیا ہے اور وہ کون کرے گا؟ اس پر سب خاموش ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ مروجہ بیانیے سے ہٹ کر بول اور لکھ نہیں سکتے تو پھر وزیراعظم کہاں سے لائیں گے متبادل بیانیہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شیعہ ہزارہ کی جانب سے کوئٹہ میں احتجاج کا منظر

اگر سیاستدانوں کو واقعی نئے بیانیے کی خواہش ہے تو کیا اچھا نہ ہو کہ وہی ایک نیا بیانیہ بھی متعارف کرائیں اور مروجہ بیانیے سے الگ یا مخالفت میں بات کرنے والوں کو کافر، دہریہ، لبرل، اسلام دشمن اور پاکستان دشمن کے بھاری القاب سے نہ نوازیں۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں اگر چاہیں تو اپنے یا اپنے اتحادی ہی مولویوں سے اس کی شروعات کراسکتی ہیں۔ باقی کوہاٹ کے دو میونسپل اہلکاروں کی معطلی یا برطرفی ہمارے اندر کے تعصبات کو کم نہیں کرسکتی۔

اسی بارے میں