مردم شماری: ’معذوروں کے اعداد و شمار میں غلطیاں ہوسکتی ہیں‘

مردم شماری کا عمل تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مردم شماری کے لیے تعینات عملے کے اراکین فوجی اہلکاروں کے ہمراہ فارم پُر کر رہے ہیں

راولپنڈی کے رہائشی محمد عثمان دونوں ہاتھوں سے محروم ہونے کے باوجود نہ صرف اپنے روزمرہ کے کام کرتے، کرکٹ کھیلتے ہیں بلکہ کریانے کی اپنی دکان بھی چلاتےہیں۔

بچپن میں کرنٹ لگنے کے ایک حادثے میں انھوں نے اپنے ہاتھ کھو دیے لیکن وقت کے ساتھ ہاتھوں کے کام پیروں سے کرنے کی عادت ڈال لی۔

انھیں شکایت ہے کہ معذوری کا مقابلہ کرنے کے لیےحکومت یا اس کے اداروں سے کبھی کوئی خاص معاونت نہیں ملی۔ محمدعثمان بتاتے ہیں کہ وہ گھر سے محلے اور دکان کی دنیا تک محدود ہیں اورعموماً وہ سفر کرنےسے پرہیز کرتے ہیں۔

’ویگن میں جب بھی بیٹھا ہوں تومشکل پیش آئی ہے۔ میٹرو جب سے بنی ہے میں صرف ایک دفعہ اُس میں بیٹھا ہوں۔ وہاں کھڑے ہوکر ٹکٹ لینے میں مشکل ہوتی ہے۔ وہاں کوئی نظام نہیں ہے کہ معذور افراد کو پہلے ٹکٹ دےدو۔ ایک دفعہ گیا تھا ٹوکن لیا وہ بھی پیچھے لائن میں لگ کے۔‘

Image caption بچپن میں کرنٹ لگنے کے ایک حادثے میں انھوں نے اپنے ہاتھ کھو دیے لیکن وقت کے ساتھ ہاتھوں کے کام پیروں سے کرنے کی عادت ڈال لی

1998 کی مردم شماری میں سروے کے ذریعے فارم ٹواے کو پُر کیا گیا۔ نتائج کے مطابق ملک میں معذورافراد کی کُل تعداد 3268630 (بتیس لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو تیس) تھی۔ جو کہ کُل 13 کروڑ آبادی کا 2.54 فیصد ہے۔

حکومت نے اِن معذور افراد کے لیے صحت اور تعلیم سمیت انھیں مختلف ہنرسکھانے کے لیے تربیتی مراکز بنائے لیکن غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ معذوروں کے لیے لیے گئے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

سرکاری پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ’آپ دفاتر چلے جائیں، بازاروں میں چلے جائیں، عوامی مقامات جیسے کہ سڑکوں اور پارکوں میں دیکھیں تو کہیں بھی ان کے لیے سہولتیں دستیاب نظر نہیں آتیں۔‘

اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ بشریات کے استاد وقاص سلیم سمجھتے ہیں کہ فارم ٹو اے کا ڈیٹا سروے کے بجائِے مردم شماری کے دوران ہی جمع کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اندازوں کے بجائے ایک جامع ڈیٹا سامنے آسکتا۔

Image caption حکومت نے اِن معذور افراد کے لیے صحت اور تعلیم سمیت انھیں مختلف ہنرسکھانے کے لیے تربیتی مراکز بنائے لیکن غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ معذوروں کے لیے لیے گئے یہ اقدامات ناکافی ہیں

’پالیسی کی سطح پہ فارم ٹو اے کی افادیت ایک فرد کو شمار کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے تعلیم، صحت، شرح حمل سمیت معذور افراد سے متعلق شہریوں کی بدلتی ہوئی بنیادی ضروریات کے بارے میں معلومات ملتی ہیں اور معاشرے کے خد و خال واضح ہوتےہیں۔‘

ملک میں معذور افراد اور ان کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے بارہا اصرار کے باوجود فارم ٹو اے کومردم شماری کا حصہ نہیں بنایاگیا البتہ 15 مارچ کو خانہ شماری کا عمل شروع ہوا اور عین اسی روز مردم شماری میں معذور افراد کو نظر انداز کرنے سے متعلق ایک کیس پر سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کی جس میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی تھی کہ مردم شماری کے فارم میں بروقت ترمیم کرکے معذوروں کے لیے الگ خانہ بنایا جائے۔

معذور افراد کی فلاح کے لیے کام کرنے والے پیام ٹرسٹ کے باسط سبحانی کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں پچھلے پندرہ بیس سالوں کے دوران زلزلے، سیلاب، مختلف حادثات سمیت دہشت گردی کے واقعات میں کئی افراد معذور ہوئے۔ ان میں ہمارے فوجی بھائی بھی شامل ہیں لیکن اس بارے میں کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے۔‘

Image caption وقاص سلیم سمجھتے ہیں کہ فارم ٹو اے کا ڈیٹا سروے کے بجائِے مردم شماری کے دوران ہی جمع کیا جانا چاہیے تھا تاکہ اندازوں کے بجائے ایک جامع ڈیٹا سامنے آ سکتا

پاکستان میں جاری چھٹی خانہ شماری کے لیے ادارہ شماریات کے ترجمان حبیب اللہ خان نے بتایا کہ ’پنجاب ہائی کورٹ کی تجویز کےمطابق جنس کے خانے میں مزید تین کوڈز ڈالےگئے ہیں۔‘

’مردم شماری فارم میں جنس کے کالم میں مرد کےلیے1، عورت کےلیے2 ، خواجہ سرا کے لیے 3 کے کوڈز پہلے سے موجود ہیں۔ تاہم اگر یہ مرد، عورت یا مخنث معذور ہے تواُس کے نام کے آگے بالتریتب 4، 5 اور6 درج کیا جائے جس سے اس کی جنس کے ساتھ ساتھ معذور ہونے کی شناخت بھی ہوسکے گی۔‘

ادارے کے مطابق کوڈز کے بارے میں ہدایات تیار کرکے تمام صوبائی سینسس کمشنرز اور نائب کمشنرزصاحبان کو فیکس اور واٹس ایپ کی گئی ہیں جہاں تحصیل کی سطح پہ تمام سرکل سپروائیزر اور سپریٹینڈنٹ سمیت نچلے عملے تک یہ معلومات پہنچائی گئی ہیں۔

حبیب اللہ خان نے بتایاکہ ’ہم سافٹ ویئرمیں ترمیم کرکے یہ نئے کوڈز شامل کررہے ہیں جس کے بعد انہیں بھی باآسانی کمپیوٹر میں پڑھا جاسکے گا۔‘

Image caption 'مردم شماری فارم میں جنس کے کالم میں مرد کےلیے 1، عورت کے لیے 2 ، خواجہ سرا کے لیے 3 کے کوڈز پہلے سے موجود ہیں

سوال یہ ہے کہ اگر یہ کام اتنا آسان تھا تو پہلے ہی کیوں نہ کر لیا گیا؟

اس پر حبیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نےعدالت کو بھی بتادیا ہے کہ اس میں آپ کو صرف معذوروں کی تعداد معلوم ہوسکے گی جبکہ بنیادی طور پر فارم ٹواے میں معذوری کی نوعیت اور اس کی وجوہات کے بارے میں بھی اعدادوشمار مل سکیں گے لیکن عدالت نے کہا کہ آپ بعد کے مراحل میں وہ بھی کریں، لیکن فوری طور پراس (معذور افراد کی شماری) پرعمل درآمد کریں۔‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ ’ایک تو پاکستان کے دور دارز اور دشوار گزار علاقوں کے شمار کنندہ تک یہ ہدایات پہنچانا ہمارے بس میں نہیں ہوگا اوردوسرے یہ شمار کنندہ نئے کوڈز ڈالنے کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں تو عین ممکن ہے کہ اعداد و شمار میں غلطیاں ہوں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوسال کی تاخیر سے ہونے والی اس مردم شماری کو جامع انداز سے کیاجانا چاہیے تھا۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ معذوروں کی شماری کے بارے میں شمار کنندہ کوآخری لمحات میں بھیجی گئی ہدایات کی وجہ سے ممکن ہے یہ کام جامع اور بھرپور انداز میں نہ ہوپائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں