یومِ پاکستان پریڈ میں غیرملکی دستے

یومِ پاکستان پریڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستانی فوج کے ہمقدم چین کے فوجی دستے، سعودی عرب کے کمانڈوز، ترکی کا فوجی بینڈ اور سلامی کے چبوترے پر پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت کے ہمراہ جنوبی افریقہ کی مسلح افواج کے سربراہ کی موجودگی آج کی 'یوم پاکستان پریڈ ' کو گذشتہ برسوں سے منفرد کرتی ہے۔

اس پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے پیدل دستوں کے علاوہ فرنٹیئر کور، پاکستان رینجرز، پاکستان پولیس، بوائے سکاؤٹس، گرل گایئڈز اور ایس ایس جی سمیت پاک فوج کی خواتین آفیسرز کے دستوں نے بھی حصہ لیا۔

گراؤنڈ میں موجود حاضرین نے چیین کی پیپلز لبریشن آرمی کے فوجی دستے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا، وہیں پریڈ کے مہمان خصوصی صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی اپنی تقریر میں متعدد بار چین اور سی پیک کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ 'امن ترقی اور خوش حالی کے عظیم ترمقاصد کے لیے ہمارے دوستوں کو پاکستان کا تعاون ہمیشہ حاصل رہے گا۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ برس پاکستان کے ایک فوجی دستے نے چین کی مسلح افواج کی پریڈ میں بھی حصہ لیا تھا۔

پیادہ فوج کے علاوہ پریڈ میں روایتی اور غیر روایتی مکانیکی دستے شامل تھے جن میں پاکستان کا 27 سو کلومیٹر تک مار کرنے والے شاہین تھری میزائل بھی تھا۔ کروز میزائل بابر، نصر اور مقامی طور پر تیار کیے جانے والے ڈرون طیارے بھی دفاعی نمائش کا حصہ تھے۔

پریڈ کے دوران فلائی پاسٹ کی قیادت پاکستان کی فضائی فوج کے سربراہ ایئرچیف مارشل سہیل امان نے کی، جبکہ لڑاکا طیاروں جے ایف 17 تھنڈر اور ایف 16 طیاروں نے فضائی کرتبوں کا مظاہرہ بھی کیا۔

ایشن کے کوبرا اور فینکس اٹیک ہیلی کاپٹرز سمیت فضائی اور بحری فوج کے کئی ہیلی کاپٹروں نے بھی پریڈ میں حصہ لیا۔ پیراٹروپر نے فری فال کا مظاہرہ بھی کیا.

اپنے خطاب کے دوران صدر ممنون حسین نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستان کا موقف برقرار رکھتے ہوئے اور انڈیا پر لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 'پاکستان انڈیا سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption زمین سے زمین تک مار کرنے والے نصر میزائل کو بھی پریڈ کا حصہ بنایا گیا

پاکستان کے اندرونی حالات پر صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ انتہا پسند بیانیے 'کی بنیاد اکھڑ چکی' اور آپریشن ردالفساد سے ’فتنے کا سر ہمیشہ کےلیے کچل دیا جائے گا۔‘

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب ریٹائرڈ کا کہنا ہے کہ 'بین الاقوامی افواج کا پریڈ میں حصہ لینے سے ہمسایہ ملک کے پاکستان سے متعلق اس تاثر کی نفی ہوئی ہے کہ پاکستان دنیا میں سفارتی طور پر تنہائئ کا شکار ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ سعودی دستے کی شرکت 'اس بات کی عکاس ہے کہ دونوں ملکوں کی تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں۔‘

پریڈ میں سامانِ حرب کی نمائش کے علاوہ پاکستان کی ثقافت کی نمائندگی بھی کی گئی، جس میں سب سے پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پھر بلوچستان کا فلوٹ سب سے آگے تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے بھی یہ پیغام دینے کی کوشش کے گئی ہے کہ پاکستان اپنے ان دونوں حصوں کو خاص اہمیت دیتا ہے۔