'فاٹا اصلاحاتی مسودے میں انضمام کا لفظ نہیں'

پرویز خٹک

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وفاق کی طرف سے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا اعلان تو کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے منظور شدہ مسودے میں سرے سے ' انضمام' کے لفظ کا وجود ہی نہیں۔

پشاور میں بی بی سی اردو سروس کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ قبائلی علاقے پانچ سال کے عرصے میں خیبر پختونخوا میں ضم میں ہو جائیں گے لیکن حقیقت میں اصلاحاتی مسودے میں بہت ساری چیزوں کے بارے میں ابہام پایا جاتا ہے جسے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا: 'اول تو انضمام کےلیے پانچ سال کا عرصہ دینا بذاتِ خود دھوکے کے مترادف لگتا ہے کیونکہ اگر حکومت واقعی سنجیدہ ہے تو یہ کام مہینوں میں ہو سکتا ہے۔'

٭ فاٹا اصلاحات کی کہانی

ان کے مطابق صوبے میں پہلے سے ایک باقاعدہ نظام موجود ہے جس کو صرف عملی شکل دینے کی ضرورت ہے لہٰذا یہ اتنا بڑا مشکل کام نہیں جس کے لیے اتنی لمبی معیاد درکار ہو۔

پرویز خٹک نے الزام لگایا کہ حکومت فاٹا کو صوبےمیں شامل کرنے کے ضمن میں سراسر غلط بیانی سے کام لے رہی ہے کیونکہ ’مسودے میں صرف قومی دھارے کا لفط لکھا گیا ہے، ضم کرنے کا لفظ نہیں ہے۔‘

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ فاٹا اصلاحاتی کمیٹی نے سفارشات مرتب کرتے وقت ان سے صرف ایک مرتبہ ملاقات کی تھی اور اس کے علاوہ ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ان کی طرف سے بعد میں کمیٹی کو بعض نکات پر تجاویز دی گئیں اور وفاق حکومت کو خطوط لکھے گئے لیکن ان پر تاحال کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

ان کے مطابق مسودے میں اختیارات کے ضمن میں بھی خاصا ابہام پایا جاتا ہے اور بعض چیزیں تو اتنی عجیب وغریب اور غیر واضح ہیں جسے سمجھنے سے سب قاصر ہیں۔

'2018 کے عام انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ فاٹا کے منتخب نمائندے خیبر پختونخوا اسمبلی کا حصہ ہوں گے لیکن ان کے پاس کوئی اختیار ہو گا اور نہ وہ اپنے علاقے کےلیے کوئی قانون سازی کرسکیں گے۔'

پرویز خٹک نے کہا کہ ایسے ارکان کو اسمبلی میں بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں جس کے پاس اختیار نہ ہو یا وہ اپنے علاقے کے لیے قانون سازی نہ کر سکتے ہوں۔

انھوں نے کہا کہ مسودے کے مطابق پانچ سال تک تمام ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا اختیار گورنر کے پاس رہے گا اور اس کےلیے الگ سیکرٹریٹ بھی قائم کیا جائے گا اور جس کا صوبے سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔

ان کے مطابق یہ بڑی عجیب بات ہے کہ فاٹا صوبے کا حصہ تو بنے گا لیکن صوبائی حکومت یا اس کے ادارے ان سے الگ تھلگ ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیِ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ایف سی آر کا خاتمہ نہایت خوش آئند بات ہے لیکن اس کی جگہ رواج ایکٹ کا نفاذ کیا جائے گا جو ایف سی آر ہی کی طرح کا ایک قانون ہے۔

’جب فاٹا کو صوبے کا حصہ بنانا ہی ہے تو پھر رواج ایکٹ کی کیا ضرورت ہے؟ بلکہ جو قانون صوبے میں ہو گا وہی خود بخود ہر جگہ لاگو ہو جائے گا۔‘

انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ چند افراد دانستہ طورپر اس عمل کو فساد بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی ہر فورم پر مزاحمت کرین گے۔

پرویز خٹک سے جب پوچھا گیا کہ بعض لوگ ان کے تحفظات کو سیاسی نوعیت کے سمجھتے ہیں، اس پر انھوں نے کہا کہ وہ سنجیدہ معاملات میں سیاست اور تنقید برائے تنقید پر یقین نہیں رکھتے۔

انھوں نے کہا کہ 'فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جا رہا ہے لیکن ایک منتخب وزیراعلیٰ اور صوبے کے افسران سے کوئی مشاورت نہیں ہورہی یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے۔'

پرویز خٹک نے کہا کہ وہ قبائلی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان اصلاحات کو کسی صورت ماننے کےلیے تیار نہیں جب تک ان کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا۔

انھوں نے خبردار کیا کہ انصاف کے حصول تک وہ احتجاج سے لے کر عدالت تک جانے کا ہر آپشن استعمال کریں گے لیکن کسی کو قبائلی عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح نہیں ہو سکتا کہ کوئی بادشاہت قائم کرے، چوری کرے، ڈاکہ ڈالے یا معاملات پر سیاست کریں اور وہ چپ چاپ دیکھتا رہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں