ملتان میں خواتین کے لیے دادرسی مرکز قائم

دادرسی مرکز تصویر کے کاپی رائٹ VAWC
Image caption اس مرکز میں خواتین کی مدد کے لیے تمام جدید سہولیات مہیا کی گئی ہیں

ملتان میں خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے بنائے گئے خصوصی دادرسی مرکز قائم کیا گیا ہے جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مرکز ہے۔

اس دادرسی مرکز کو خواتین ہی چلائیں گی اور ان میں متاثرہ کی شکایت سننے سے لے کر فرسٹ ایڈ، طبی معائنے، نفسیاتی کونسلنگ، پولیس رپورٹنگ اور تفتیش کی سہولیات بھی شامل ہوں گی۔

٭ خواتین پر تشدد روکنے کے لیے موبائل ایپ متعارف

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے اس مرکز کا افتتاح کیا۔

انھوں نے اس موقعے پر تقریر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مرکز خواتین کے خلاف جرائم کے سدِباب میں معاون ثابت ہو گا۔

پنجاب کے سٹریٹیجک ریفارم یونے کے ڈائریکٹر جنرل سلمان صوفی نے ایک بیان میں کہا کہ کرمنل جسٹس سسٹم میں تبدیلی کی جانب ایک قدم ہے جس میں ان گھسے پٹے طریقۂ کار کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے تحت خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ان مراکز کو مفت کال کرنے سہولت اور متاثرین کو مراکز تک پہنچانے کے لیے ایمبولینس سروس بھی فراہم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ان مراکز میں ایک مصالحتی مرکز بھی ہو گا جہاں چھوٹے موٹے واقعات کے لیے متاثرہ کی اجازت سے فریقین کے درمیان مصالحت کروائی جا سکے گی۔ جب کہ زیادہ سنگین واقعات میں متاثرہ کو حسبِ ضرورت پناہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملزمان کے خلاف پولیس کی کارروائی شروع کرنے میں مدد دی جائے گی۔

اس مقصد کے لیے مرکز میں کام کرنے والی اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

خیال ہے کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات اکثر اخبارات اور میڈیا میں سامنے آتے رہتے ہیں۔

2011 میں شائع ہونے والی ٹامس روئٹرز فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان اور کانگو کے بعد پاکستان کا شمار عورتوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں عزت کے نام پر کیے جانے والے قتل اور عورتوں پر تیزاب پھینکنے کے واقعات عام ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں