لندن میں دہشت گردی اور ’سیاسی فائدے کے لیے حملہ‘

لندن تصویر کے کاپی رائٹ NIKLAS HALLE'N
Image caption لندن میں پارلیمان کے قریب پولیس اہلکار پہرے پر موجود ہے

سوشلستان میں ان دنوں کرکٹ اور یومِ پاکستان کے ٹرینڈز بھرپور انداز میں چھائے ہوئے ہیں۔ کچھ عرصے کے لیے جماعتی اور گروہی تفریق کی جگہ پاکستانیت نظر آتی ہی۔ مگر لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے پر شدید بحث مباحثہ بھی اپنی جگہ ہے جس میں طلبہ تنظیموں اور سیاست دانوں کے ماضی کے قصے لکھے جا رہے ہیں۔ مگر ہمارا آج کا فوکس ہے لندن میں ہونے والے حملے کے بعد سامنے آنی والی چند باتوں کا۔

لندن حملے کی کوریج

لندن میں ہونے والے حملے کے بعد تین باتیں جن پر بہت زیادہ بات کی جا رہی ان میں سے پہلی مسلمانوں کے خلاف نفرت کے حوالے سے ایک تصویر ہے۔

جہاں اس تصویر میں ایک زخمی زمین پر پڑے ہیں ان کے ارد گرد چند افراد جمع ہیں وہیں ایک خاتون جنھوں نے سر پر سکارف پہنا ہوا ہے پاس سے گزر رہی ہیں اورتصویر سے ظاہر ہے کہ وہ پریشان ہیں اور کسی کو فون کر رہی ہیں۔

اس تصویر کے اوپر بہت سارے تبصرے کیے گئے جن میں ان کے مسلمان ہونے اور ایک زخمی شخص کو نظر انداز کرنے سے لے کر ان کی ذات پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

دائیں بازی کی ایک ویب سائٹ سے تعلق رکھنے والے رچرڈ سپنسر نے تصویر لگا کر اس پر تبصرہ لکھا کہ 'گزر جاؤ' جس کے جواب میں بہت سی نفرت انگیز ٹویٹس لکھی گئی مثال کے طور پر یہ کہ 'انھیں ایک پارٹی میں شرکت کرنے جانا ہے اور اس کے بعد ایک بم بنانے کی کانفرنس میں شرکت کرنی ہے۔'

ایک اور ٹویٹ میں ان کا موازنہ سر قلم کرنے والے نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے جلادوں سے کیا گیا مگر سب تنقید کرنے والے نہیں تھے جیسا کہ ازاک ساؤل نے لکھا کہ 'آپ غور کریں کہ یہ کتنی پریشان ہیں'

ایک اور ٹوئٹر صارف نے ایک سفید فام مرد کی تصویر کے ساتھ لکھا کہ 'اگر آپ ایک مسلمان عورت کے بارے میں رائے ایک تصویر کی بنیاد پر قائم کریں گے تو کیا ہم اس مرد کے بارے میں رائے دیں گے؟۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption لندن حملے کے بعد یہ تصویر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث رہی

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے کی جانب سے لندن کے میئر صادق خان پر تنقید کے بعد اب وہ خود زیرِ عتاب ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے اپنی ٹویٹ میں صادق خان کی 2016 ستمبر میں کی گئی ایک ٹویٹ کا حوالہ دے کر لکھا جس میں صادق خان نے کہا تھا کہ 'دہشت گردی کے حملے 'کسی بھی بڑے شہر میں رہنے کا حصہ بن چکے ہیں'۔

اس پر ٹرمپ جونیئر نے لکھا کہ 'آپ مذاق کر رہے ہیں کیا؟'

لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان ویس سٹریٹنگ نے لکھا 'آپ ہمارے شہر پر دہشت گردی کے حملے کو بنیاد بنا کر لندن کے میئر پر اپنے سیاسی فائدے کے لیے حملہ کر رہے ہیں۔ آپ کو شرم آنی چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ایک ٹوئٹر صارف نے جواباً اس سفید فام مرد کی تصویر کی جانب اشارہ کیا۔

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے رعنا صفوی کا جو انڈیا سے تعلق رکھتی ہیں اور انڈیا کی ثقافت، روایات اور اقدار پر لکھتی ہیں۔ اپنے آپ کو خوش خوراک کہتی ہیں اور کھانے پکانے کے بارے میں بھی لکھتی ہیں۔ ان کی ٹائم لائن بہت دلچسپ ہے۔ آپ انھیں ٹوئٹر پر فالو کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ SHAHZAIB AKBER
Image caption ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر لی گئی یہ تصویر جس میں کراچی کے نواحی علاقے کا ایک باسی پانی بھر کر لا رہا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ ASIF HASSAN
Image caption پاکستان ہندو کونسل نے گذشتہ اتوار کو کراچی میں 62 ہندو جوڑوں کی شادی کا انتظام کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں