پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع

Image caption خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منصوب پاک افغان سرحد تقربناً چوبیس سو کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں کے سرحدی علاقوں کو زیادہ خطرات کا سامنا ہونے کی وجہ سے ترجیح دی جارہی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنیچر کو بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحدی علاقوں کا دورہ کیا۔ آرمی چیف کو سرحد پر سکیورٹی انتظامات، سرحد پار سے دہشتگردی کے خطرات اور پاکستانی چوکیوں پر دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

آئی ایس پی ار کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور مہمند اور باجوڑ ایجنیسوں کے سرحدی علاقوں کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنے کی وجہ سے انتہائی ترجیح دی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معمول کی فضائی نگرانی کے علاوہ سرحد پر اضافی تکنیکی نگرانی کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

بری فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاک فوج مادر وطن کے دفاع اور پاکستانی امن پسند قبائلیوں کے تحفظ اور سکیورٹی کے لیے تمام تر وسائل بروکار لائے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ افغان حکام کے ساتھ دو طرفہ ’بارڈر سکیورٹی میکینزم‘ کے لیے کوششیں جاری ہیں اور ایک بہتر انتظام کے ذریعے محفوظ اور پرامن سرحد دونوں ممالک کے باہمی مفاد میں ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔

Image caption آرمی چیف نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کاعمل شروع ہوچکا ہے اور مہمند اور باجوڑ ایجنیسوں کے سرحدی علاقوں کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنے کی وجہ سے انتہائی ترجیح دی جارہی ہے

بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانا اربوں روپے کا ایک منصوبہ ہے جس کے تحت سرحد پر نگرانی کے لیے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کیے جائیں گے جبکہ اس ضمن میں جدید ریڈار سسٹم بھی نصب کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منصوب پاک افغان سرحد تقریباً چوبیس سو کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں تقریباً 100 کے قریب افراد کی ہلاکت کے بعد ان واقعات کا الزام سرحد پار افغان علاقوں میں مقیم شدت پسند تنظیموں پر لگایا گیا تھا۔ پاکستان نے ان واقعات کے بعد سرحد پر انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت پڑوسی ملک کے ساتھ واقع تمام سرحدی گیٹ تقریباً ایک ماہ تک بند کر دیے گئے تھے۔

گذشتہ سال جون جب پاکستان نے غیر قانونی آمدورفت کی روک تھام کے لیے طور خم کے مقام پر باڑ کی تنصیب شروع کی تھی تو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی اور فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں