’سعودی اتحاد مخالف مطمئن رہیں کمان جنرل راحیل کے ہاتھ میں ہوگی‘

جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف اور ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کے ساتھ (فائل فوٹو)

پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ کا کہنا ہے کہ 'ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف سعودی عرب اور ایران کو ایک دوسرے کےقریب لائیں گے‘۔

انھوں نے یہ بات پاکستان کی بحری سکیورٹی سے متعلق چیلنجز پر اسلام آباد میں ہونے والی ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہی۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے 39 مسلم ممالک پر مشتمل سعودی فوجی اتحاد کے سربراہ کے طور پر ممکنہ تعیناتی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ 'اتحاد مخالف ممالک' کو اطمینان ہونا چاہیے کہ 'اس اتحاد کی کمان جنرل راحیل شریف جیسے فوجی کے ہاتھ میں ہوگی۔'

ان کے خیال میں اگر جنرل راحیل یہ عہدہ قبول کرلیتے ہیں تو وہ سعودی عرب اور ایران کے اختلافات ختم کرنے اور دونوں ملکوں کو قریب لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔ جنرل جنجوعہ کے بقول راحیل شریف 'امت مسلمہ کے اتحاد کا سبب بنیں گے۔'

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو دہشت گردی کے خلاف 39 مسلم ممالک کے اتحاد کا سربراہ بننے سے متعلق اجازت نامے کے اجرا کی تصدیق وزیر دفاع خواجہ آصف کر چکے ہیں۔

دسمبر 2015 میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 30 سے زیادہ اسلامی ممالک نے سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس اتحاد میں ابتدائی طور پر 34 ممالک تھے تاہم بعد ازاں ان کی تعداد 39 ہوگئی۔

لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کے مطابق اس اتحاد کی سربراہی کے معاملے پر 'ذاتی حملوں سے گریز کرتے ہوئے دور رس نتائج پر نظر رکھنا ہوگی'۔

انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف 'اپنے تجربے اور فکر سے مسلم ممالک کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کریں گے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مشیر قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے انڈیا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انڈیا نے دو فرنٹ کھول رکھے ہیں جو 'گھاٹے کا سودہ' ہے کیونکہ یہ دونوں محاذ 'ایٹمی طاقتوں' یعنی چین اور پاکستان کے خلاف ہیں۔

مشیر قومی سلامتی کے مطابق پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب ' کاؤنٹر ٹیررازم ' تھا، جبکہ آپریشن رد الفساد 'انتہا پسندانہ سوچ' کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی ایکشن پلان پر کام جاری ہے جو کہ مذہبی انتہاپسندانہ بیانیے سے متعلق ہے۔ اگرچہ ان کا کہنا تھا کہ وہ 'مدارس کے حوالے سے جلد ایک اچھی خبر' سنائیں گے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مدرسہ اصلاحات پر کس حد تک کام کیا جا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'نفرت انگیز مواد کا خاتمہ بھی قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے'، مگر انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انٹرنیٹ پر موجود توہین آمیز مواد کے خاتمے کے لیے وزارت داخلہ کام کر رہی ہے جسے ان کی 'مکمل حمایت' حاصل ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں