حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی: امریکہ میں پاکستانی سفیر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
امریکہ میں پاکستانی سفیر کے بقول پاک انڈیا مذاکرات کے تعطل کا فائدہ دہشتگرد اٹھاتے ہیں

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دیے جانے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ انڈیا پاکستان سے مذاکرات معطل کرتا ہے تو اِس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

پاکستان کے ساتھ خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی: امریکہ

ایل او سی پر کشیدگی برقرار، امریکہ کی تحمل کے مظاہرے کی اپیل

’پاکستان امریکہ کی نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے‘

حقانی نیٹ ورک کے بارے میں اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ’وہ ہمارے دوست نہیں ہیں اور نہ ہماری پراکسی ہیں۔ اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کسی قسم کا تشدد کریں، کسی کے خلاف بھی، امریکہ کے خلاف یا افغانستان کے خلاف۔ عام انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنا درست نہیں ہے۔‘

اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے جس طریقے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ہے کوئی اور قوم ایسی نہیں کر سکتی کہ کس طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کیا، کس طریقے سے افغان جہاد کے زمانے سے پیدا ہونے والے مسائل کو ختم کیا۔‘

ایک سوال کے جواب میں اعزاز احمد چوہدری نے کہا کہ ’پاکستان کو دہشت گردی کی معاون ریاست قرار دینے کی بات چند ذہنوں کی سوچ ہے اور اِس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ چند لوگوں کی سوچ ہے جو اس طرح کی خبروں کو ان کی اصل حقیقت سے بڑھ کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم ہندوستان کے ساتھ امن اور سلامتی کا رشتہ چاہتے ہیں: اعزاز احمد چوہدری

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک بل پیش کیا گیا جس کے تحت پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والا ملک قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اعزاز احمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے صدر ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں خیالات جاننے ہیں تو اس بیان کو پڑھیں جو انھوں نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران دیا۔‘

حافظ سعید کی نظربندی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سرزمین سے کوئی بھی منفی پیغام باہر جائے۔‘

’ہمارا پیغام بہت واضح ہے، ہم ہندوستان کے ساتھ امن اور سلامتی کا رشتہ چاہتے ہیں، دوستانہ ماحول چاہتے ہیں۔ باہمی احترام کی بنیاد پر پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان اور ہندوستان امن کی جانب بڑھتے ہیں دہشت گرد کوئی کارروائی کر دیتے ہیں اور جب ہندوستان بات چیت روک دیتا ہے تو اس سے دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی ہورہی ہوتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں