اتن اور پشتون طلبا کا منفرد احتجاج

اتان

اتن وہ روایتی رقص ہے جو پاکستان اور افغانستان کے پشتون قبائل میں صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ وہ رقص ہے جو جنگ ہو یا امن دونوں میں ان پشتونوں کے لیے اظہار کا ایک ذریعہ بنتا ہے۔

اسی رقص کا ایک قدرے مختلف انداز پیر کے روز لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کے سامنے احتجاج کرنے والے پشتون طلبا نے اپنایا۔

احتجاج کرنے والے طلبا جن میں اکثریت خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والوں کی تھی جامعہ پنجاب کے قریب واقع برکت مارکیٹ میں جمع ہوئے جہاں سے انھوں نے یونیورسٹی کے ایک مرکزی دروازے تک امن واک کی۔

جامعہ پنجاب کے مرکزی دروازے پر پہنچ کر چاورں اطراف کی ٹریفک روک کر احتجاج کرتے طلبا نے پنجاب حکومت سے دو مطالبات کیے۔ پہلا یہ کہ جامعہ میں طلبا کی سیاسی طور پر تنظیم بندی پر مکمل پابندی لگائی جائے اور دوسرا مطالبہ خصوصی طور پر پنجاب یونیورسٹی میں جماعتِ اسلامی کی طلبا کی تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبا کی مبینہ پرتشدد یا سیاسی کارروایئوں کی روک تھام کا تھا۔

تقریباً دو گھنٹے تک سراپا احتجاج رہنے والے پشتون طلبا نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ اپنا روایتی رقص اتن کرنے سے پہلے منتشر نہ ہوں۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے بارہا اسرار کے باوجود طلبا نے ڈھول والے کے پہنچنے کا انتظار کیا اور اتان ڈھول کی تھاپ پر کیا گیا۔

اگرچہ ڈھول کی تھاپ پنجابی طرز پر تھی، پشتون طلبا کا کہنا تھا کہ اتان سے ان کا مقصد صرف پیغام پہنچانا تھا۔ پیر کے روز منعقد کیے جانے والی امن واک اور اتان کے ذریعے احتجاج کے پس منظر میں پشتون طلبا اور اسلامی جمیعت طلبا کے درمیان گذشتہ ہفتے ہونے والا تصادم تھا جس میں دس سے زیادہ طلبا زخمی ہوئے تھے اور جامعہ پنجاب میں تدریسی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

پشتون طلبا کے مطابق اسلامی جمیعتِ طلبا کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی میں ان کی پشتون کلچر کا دن منانے کے حوالے سے ہونے والی تقریب کو دانستاٌ خراب کرنے کی کوشش کے باعث تصادم ہوا۔

یہی وجہ تھی کہ پشتون طلبا نے پیر کے روز اپنے احتجاج میں اتن کو بھی شامل کیا۔ تاہم اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسلامی جمیعتِ طلبا کے ترجمان تیمور خان نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون طلبا کی جانب سے اشتہا انگیز باتیں جھگڑے کا سبب بنیں۔

تاہم پشتون طلبا نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جامعہ پنجاب میں تعلیم حاصل کرنے والے چند سو پشتون، بلوچ اور دیگر ہم خیال طلبا احتجاجاٌ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

پشتون طلبا کے نمائندے اسلام وزیر جو ایم فل کے طالبِ علم ہیں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں طلبا کی یونین یعنی سیاسی تنظیم سازی پر پہلے ہی سے پابندی ہے مگر اس پابندی پر عمل در آمد نہیں کیا جا رہا۔

’ہم پنجاب حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پنجاب یونیورسٹی سے ہر قسم کی سیاسی تنظیموں کو ختم کیا جائے اور خصوصاٌ اسلامی جمیعتِ طلبا کے جامعۃ میں موجود دفاتر کو بند کیا جائے۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ اسلامی جمیعتِ طلبا نے جامعہ کے ہاسٹل میں قبضہ جما رکھا ہے اور مطالبہ کیا کہ ان کو وہاں سے نکالا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب حکومت کی طرف سے کارروائی کیے جانے کا انتظار کریں گے اور اگر حکومت کی جانب سے کچھ نہ کیا گیا تو وہ احتجاجاٌ اپنی ڈگریاں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

اسلامی جمیعتِ طلبا کے ترجمان تیمور خان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔ وہ صرف طلبا کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی تنظیم کے کارکنان نے جامعہ کے ہاسٹل پر قبضہ جما رکھا ہے۔

’ہماری تنظیم کے تمام کارکنان جامعہ کے طالبِ علم ہیں اور قانونی طور پر الاٹ کیے گئے کمروں میں قیام پذیر ہیں۔‘

پشتون طلبا کے ایک اور رہنما پشتون کونسل کے سابق چیئرمین ابرار احمد خان کا کہنا تھا کہ ان کے کلچرل ڈے کے موقع پر ان کہ اسٹال پر حملہ کیا گیا۔

انھوں نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ داران کو پکڑ کر انھیں سزا دی جائے اور جب تک ایسا نہیں ہو گا وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جامعہ پنجاب کے طالبِ علم بنگل خان بگٹی نے کہا کہ یہ معاملہ لسانی نوعیت کا نہیں ہے اور نہ ہی اس کو ایسا کوئی رنگ دینا مناسب ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مار پیٹ کے ماحول میں تعلیم کا حصول ممکن نہیں اس لیے وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ماحول کو بدلا جائے اور جامعات میں طلبا کی سیاسی تنظیموں پر پابندی پر عمل درآمد کیا جائے۔

پشتون طلبا کے احتجاج کے وقت جامعہ پنجاب کے ایک اور دروازے کے باہر اسلامی جمیعتِ طلبا کے کارکنان نے بھی احتجاج کیا جس میں مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے ہونے والے تصادم میں زخمی ہونے والے ان کے کارکنان طلبا نے حصہ لیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں