فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کی منظوری

پاکستان

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے منگل کو قومی اسمبلی سے منظور شدہ فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع کی منظوری دے دی ہے۔

28 ویں ترمیم کے حق میں 78 ووٹ جبکہ مخالفت میں تین ووٹ دیے گئے۔ جمعیت علمائے اسلام ف اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینیٹرز نے اجلاس میں حصہ نہیں لیا۔

اگر فوجی عدالتیں بھی ناکام ہو گئیں تو۔۔۔

فوجی عدالتیں: ’ہم اسی بل سے دوبارہ ڈسے جا رہے ہیں‘

فوجی عدالتوں میں توسیع پر تنازع کیا؟

جن تین سینیٹرز نے 28 ویں ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیے ان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے گل بشریٰ، عثمان کاکڑ اور اعظم خان موسیٰ خیل شامل ہیں۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے بل کی منظوری کے دن کو 'سیاہ دن' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'ہم نے خود دہشت گردوں کو پالا، آج جمہوری لوگ فوجی عدالتوں کے مددگار ہیں'۔

انھوں نے اس بل کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین پارلیمنٹ 'پانامہ لیکس پر فوجی عدالت قائم کرنے پر ہرگز تیار نہ ہوں گے'۔ان کے ہمراہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی ہی گل بشریٰ، عثمان کاکڑ نے بھی بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

رائے شماری سے قبل ہونے والی بحث کے دوران سینیٹر سحر کامران نے آج کے دن کو 'پارلیمان کی شکست' کا دن قرار دیا جس پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو شکست نہیں دی جا سکتی، 'پارلیمنلٹ سمجھوتہ کرتی ہے'۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اس آئینی ترمیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس اچھے کام پر معذرت خواہانہ لہجہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے نہ ہی شرمندہ ہونے کی‘۔

چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے ایوان کو بتایا کہ سینیٹ سے منظور ہونے والے بل کو چئیرمین سینیٹ نے دستخط کر کے صدر مملکت کو بھیجنا ہوتا ہے اس لئے 'چیمبر کی تاریکی میں بیٹھ کر بل پر دستخط کرنے کی بجائے اجلاس کی صدارت کر کے آئینی ذمہ داری پوری کرنے کو مناسب سمجھا'۔

واضح رہے کہ چیئرمین سینٹ نے اس سے پہلے اجلاس میں کہا تھا کہ وہ فوجی عدالتوں کی توسیع کے بل کی منظوری کے دن یعنی آج ہونے والے اجلاس کا حصہ نہیں بنیں گے۔

سینیٹ سے منظوری کے بعد 28 ویں ترمیم صدر مملکت کو بھیجی جائے گی۔ جس کے بعد اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ کا درجہ حاصل ہوگا۔ واضح رہے کہ جنوری 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق 21 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں منظور کی گئی تھی۔

سینیٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کے قیام کی قرارداد بھی منظور کی۔ کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان شامل ہوں گے ۔ یہ کمیٹی قومی سلامتی کے امور پہ عمل درآمد کی سہ ماہی رپورٹ پیش کیا کرے گی ۔

واضح رہے کہ سینیٹ پہلے ہی آرمی ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو کثرتِ رائے سے منطور کر چکی ہے تاہم اس وقت فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت میں دو سال کی توسیع کی منظوری نہیں دی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں