’ایسا نہیں کہ مرد حضرات خواتین سربراہ کو پسند نہیں کرتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ UBL

ملک کے چھ بڑے کمرشل بینکوں میں سے ایک یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون کو بینک کا صدر اور چیف ایگزیکٹیو افسرمقرر کیا ہے۔

سیما کامل یکم جون سے باضابطہ اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گی اور اُس وقت تک وہ یو بی ایل کی ڈپٹی سی ای او کے طور پر فرائض سرانجام دیں گی۔

سیما کامل پاکستان کی ایک ممتاز بینکر ہیں اور گذشتہ تین عشروں سے اِسی شعبے کے ساتھ وابستہ ہیں۔

انھوں نے 80 کی دہائی میں لندن کی کنگسٹن یونیورسٹی سے بی بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد لندن ہی کی سٹی یونیورسٹی سے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی۔

پاکستان واپس آکر انھوں نے امیریکن ایکسپریس بینک کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا، بعد میں انھوں نے گرنڈلیز بینک میں بھی کام کیا جسے بعد میں سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک نے حاصل کرلیا تھا۔

اس کے بعد سیما کامل نے حبیب بینک لمیٹڈ میں 16 سال تک برانچ بینکنگ، کارپوریٹ انویسٹمینٹ اور رِسک مینجمنٹ جیسے اہم امور انجام دیے۔

یو بی ایل کی صدر کے طور پر اپنی تعیناتی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی شخص اپنے کریئر کا آغاز کرتا ہے تو وہ اونچے ترین مقام پر جانا چاہتا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ اس وقت انہیں یہ امید نہیں تھی کہ وہ بینک کی صدر بن جائیں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں خواتین کے لیے اوپر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم مجھے آج تک بینکنگ کے شعبے میں خاتون ہونے کی وجہ سے کبھی کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئی۔ اگر آپ لوگوں کو عزت دیں گے تو وہ آپ کو عزت دیں گے اور اگرچہ پاکستان ایک روایتی ملک ہے مگر یہ کہنا کہ مرد حضرات خواتین سربراہ کو پسند نہیں کرتے، ایسا نہیں ہے۔'

پاکستان میں بینکنگ کے شعبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تقریباً بیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں بہت کم لوگ بینکنگ کے نظام سے وابستہ ہیں اور یہی سب سے بڑا چیلنج ہے کہ عوام بینکنگ کے نظام کو اپنا سمجھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نیا عہدہ ان کے لیے بہت خوشی کا سبب ہے اور یہ ان کے لیے بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔

سیما کامل کو بینکنگ کے علاوہ تعلیم کے شعبے میں گہری دلچسپی ہے اور وہ کراچی گرامر سکول کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرپرسن بھی ہیں۔

ان کا کہنا کہ وہ ایک دن اپنا سکول بھی ضرور قائم کریں گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں