صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے خلاف مارخور کو مارنے کا مقدمہ درج

سرفراز بگٹی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی سے رابطہ کیا توان کا کہنا تھا کہ انھیں تاحال اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں ملا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کے خلاف ایک نایاب جنگلی جانور مارخور کو مارنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ بلوچستان کے علاقے تکتو میں لیویز تھانہ میں درج کیا گیا ہے۔

بی بی سی نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق محکمہ جنگلات کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ تکتو میں جس مارخور کا شکار کیا گیا اس کے لیے قانون کا راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔

بلوچستان ہائیکورٹ کے نوٹس لینے کے بعد محکمہ جنگلات کے ایک سینیئر اہلکار کی جانب سے 26مارچ کوتکتو لیویز تھانے میں وزیر داخلہ کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

جب اس سلسلے میں بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی سے فون پر رابطہ کیا توان کا کہنا تھا کہ انھیں تاحال اس سلسلے میں کوئی نوٹس نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوئی غیر قانونی شکار نہیں کیا تاہم نوٹس ملنے پر وہ تمام باتوں کا جواب عدالت میں دیں گے

مارخور کا شمار ان جنگلی جانوروں میں ہوتا ہے جن کی نسل خطرے سے دوچار ہے اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ پاکستان کا قومی جانور بھی ہے۔

شکار سے نہ صرف ان کو تحفظ حاصل ہے بلکہ بعض علاقوں میں ان کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں جن میں کوہ چلتن ، تکتو وغیرہ شامل ہیں۔

کوئٹہ کے قریب تکتو کے علاقے میں اس سال فروری کے مہینے میں ایک مارخور کا شکار ہوا تھا۔

سوشل میڈیا پر اس کی باقاعدہ تصویر بھی جاری کی گئی تھی۔

اس تصویر میں بلوچستان کے وزیر داخلہ شکار کے لیے استعمال ہونے والی ایک بندوق ہاتھ میں تھامے مارخور کے قریب بیٹھے نظر آرہے ہیں ۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے اس واقعے کا نوٹس لیا تھا ۔

عدالت نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وزیر داخلہ سے یا تو جرمانہ وصول کیا جائے یا قانون کے مطابق کاروائی کی جائے

بلوچستان میں مارخور کے شکار کے لیے ایک طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے۔ ایک مارخورکے شکارسے پہلے محکمہ جنگلات کو 80ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں