بدعنوانی کے مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت منظور

ڈاکٹر عاصم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین، وسیم اختر، انیس قائم خانی اور دیگر ملزمان کے خلاف گواہوں کو 16 نومبر کو پیش کرنے کی ہدایت کی

سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کی طبی وجوہات کی بنا پر ضمانت منظور کر لی ہے۔

پاکستانی کے سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کے روز کراچی میں فیصلہ دیتے ہوئے انھیں 25، 25 لاکھ کے دو مچلکے بطور زرِ ضمانت جمع کرنے کا حکم دیا۔

ڈاکٹر عاصم کے خلاف 462 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزام کے تحت مقدمات قائم ہیں۔

ان کے وکلا کا موقف تھا کہ ڈاکٹر عارضۂ قلب سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں اس لیے انھیں علاج کی خاطر ضمانت کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل گذشتہ برس دسمبر میں سندھ ہائی کورٹ نے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلروں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے مقدمے میں بھی ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت منظور کر لی تھی۔

البتہ عدالت نے انھیں بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہں دی تھی اور حکم دیا تھا کہ وہ اپنے پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

ڈاکٹر عاصم کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ ان کی اسیری کے دوران ان کے معالج بھی رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد انہیں 2008 چیئرمین نیشنل ری کنسٹریشن بیورو تعینات کیا گیا، 2009 میں سینیٹر منتخب کیا گیا لیکن سپریم کورٹ کے دوہری شہریت کے بارے میں فیصلے کے بعد انہیں 2012 میں مستعفی ہونا پڑا۔

مستعفی ہونے سے قبل وہ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر بھی رہے اور اس عرصے میں سی این جی اسٹیشن کے پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ دیگر معاملات میں ان کے کردار پر مخالفین تنقید کرتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ رینجرز نے اگست 2015 میں حراست میں لیا تھا۔

ان کی گرفتاری پر سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے اور سابق صدر آصف علی زرداری کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ میاں نواز شریف نے 1990 کی دہائی کی انتقامی سیاست کو دہرایا ہے۔

اسی بارے میں