دیر: سکیورٹی آپریشن پر رضاکار لشکر کے ارکان کا احتجاج

رضاکار لشکر
Image caption دیر بالا میں رضاکار لشکر کے ارکان

خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں بننے والے طالبان مخالف امن لشکر کے رضاکار علاقے میں کیے جانے والے سرچ آپریشنز پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

امن کے حامی لشکر کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے سرچ آپریشن کے نام پر ان سے نہ صرف ان کا ذاتی اسلحہ ضبط کر لیا ہے بلکہ لشکر کے بعض رضاکاروں پر مقدمات بھی درج کیے ہیں جبکہ کچھ کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

دیر بالا میں طالبان مخالف امن لشکر کے سربراہ شاد محمد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں کیا جانے والا سرچ آپریشن اصل میں شدت پسندوں کے خلا ف نہیں کیا گیا بلکہ یہ آپریشن ہلاکت خیز حملوں کا سامنا کرنےوالے قومی لشکر کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

٭ دیر بالا میں امن لشکر پر حملہ، سات افراد ہلاک

انھوں نے بتایا کہ رات کی تاریکی میں رضاکاروں کے گھروں پر چھاپے مارنا اور اسلحہ قبضے میں کرنا علاقے کے سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، قومی لشکر ریاست مخالف عسکریت پسندوں کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے بلکہ ان کو کچلنا اپنی آئینی ذمہ داری بھی سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان نے عسکریت پسندوں کا راستہ روکنے کی پاداش میں اب تک متعدد رضاکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

لشکر کے رکن ملک شاہ حسین نے بتایا کہ 'ہم سے اسلحہ لے کر ہمارے ہاتھ خالی کر دیے گئے ہیں جبکہ ہما رے دشمن جدید اسلحہ سے لیس ہیں۔ تو کس طرح ہم خالی ہاتھ یا ڈنڈوں کے ذریعے ان کا سامنا کرسکتے ہیں؟'

وہ کہتے ہیں کہ 'پہلے رضاکار دن کے علاوہ رات کو بھی گشت کرتے تھے اور اپنے بنائے ہوئے حفاظتی مورچوں میں موجود رہتے تھے لیکن اب قومی لشکر کے وہ مورچے خالی پڑے ہیں اور رات کا گشت بھی ختم کر دیا گیا ہے۔'

انھوں نے واضح کیا کہ 'پولیس نے جو اسلحہ میڈیا کے سامنے پیش کیا وہ پولیس کا اپنا تھا رضاکاروں کا نہیں تھا اور اگر لشکر کو اسلحہ واپس نہ کیا گیا اور گرفتار رضاکاروں پر درج مقدمات ختم کر کے انھیں جیلوں سے رہا نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں علاقے کا کوئی بھی فرد امن لشکر کا حصہ نہیں بنے گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اعجاز احمد نصرت درہ کے باسی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'لشکر اس وقت وجود میں آیا جب ایک طرف پولیس طالبان کے حملوں کے اگے بے بس ہو چکی تھی تو دوسری جانب بعض سیاسی جماعتوں سمیت طالبان مخالف قوتوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ پھر ان لشکروں نے پولیس کے ہاتھ مضبوط کیے۔ لیکن افسوس کہ اب پولیس نے ان سے اسلحہ لے کر انھیں دفاع کے حق سے محروم کر دیا ہے۔'

لشکر کے ترجمان افتخار حسین نے بتایا کہ انھوں نے 'پولیس کے اس اقدام کے خلاف پریس کانفرنسیں بھی کیں لیکن تا حال پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنےنہیں آیا، جس سے لشکر کے رضاکاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔'

اس حوالے سے دیر بالا کے ضلعی پولیس افیسر اطہر وحید نے بتایا کہ 'علاقے میں کیے جانے والے سرچ آپریشنز فوج، لیویز اور پولیس مشترکہ طور پر کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گرفتار لوگوں سے غیر قانونی اسلحہ وافر مقدار میں برآمد ہوا ہے اور گرفتار افراد لشکر کا حصہ نہیں ہیں۔'

خیال رہے کہ 2007 اور 2008 کے دوران حکومتی پالیسی کے تحت فاٹا، ایف آرز اور خیبر پختونخوا کے شورش سے متاثرہ اضلاع میں قومی لشکر اور امن کمیٹیوں کے نام پر مقامی لوگوں کو مسلح کیا گیا جن میں بیشتر کو عسکریت پسندوں نے چن چن کر حملوں کا نشانہ بنایا جن میں اب تک سینکڑوں رضاکار اور امن کمیٹیوں کے ارکان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بہت سے دوسرے اپنے علاقوں سے ملک کے اندر یا بیرون ملک نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں