گستاخانہ مواد کیس: ٹھوس شواہد ہیں تو پانچ بلاگرز کو وطن واپس لایا جائے

اسلام آباد ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کے مقدمے میں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ بیرون ملک چلے جانے والے پانچ بلاگرز کے خلاف ٹھوس شواہد ہیں تو ان کو وطن واپس لانے کے انتظامات کیے جائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مختصر فیصلے میں حکم دیا ہے کہ وزارت داخلہ ایک ایسی کمیٹی تشکیل دے جو سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد کو مکمل طور پر ہٹانے کے سلسلے میں قدم اٹھائے۔

سوشل میڈیا پر پابندی مسئلے کا حل نہیں: وزارت داخلہ

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشنز اتھارٹی یعنی پی ٹی اے ایسا جامع اور حساس میکینزم تشکیل دے گا جس کے تحت گستاخانہ مواد یا صفحات کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی تاکہ ان کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

مختصر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ ایک ماہ کے اندر الیکٹرانک جرائم کے انسداد کے قانون میں ترامیم کر کے توہین مذہب اور رسالت کے قوانین شامل کیے جائیں۔

عدالت نے کہا ہے کہ توہین مذہب کا غلط الزام لگانے کے قانونی نتائج کے مسئلے پر بھی حکومت توجہ دے۔ کیس کی سماعت کرنے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ معاملہ کی نزاکت سمجھتے ہوئے حکومت ایک ماہ کے دوران حکم نامہ پر عمل درآمد کرائے۔

اس کے علاوہ چیئرمین پی ٹی اے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک سائنسی میکینزم وضع کریں تاکہ گستاخانہ اور فحش مواد کے بارے میں آگہی پھیلائی جائے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مختصر فیصلے میں وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وزارت کے سیکریٹری متعلقہ اداروں یا افراد کا ایک پینل یا کمیٹی تشکیل دیں جو ایک ایسی جامع مہم شروع کر کے سوشل میڈیا سے گستاخانہ مواد زائل کرے، متعلقہ لوگوں کی شناخت کرے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

وزارت داخلہ کو ہی حکم دیا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ ان غیرسرکاری اداروں کی نشان دہی کر کے قانون کے مطابق کارروائی کرے گی جن کا ایجنڈا ملکی یا غیر ملکی فنڈنگ سے پاکستان میں توہینِ مذہب اور فحاشی پھیلانا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے مختصر میں حکم دیا ہے کہ چونکہ اٹارنی جنرل نے پہلے ہی سے گستاخانہ اور فحش مواد کا معاملہ اور غلط الزام دہی کو انسدادِ الیکٹرانک جرائم مجریہ 2016 میں شامل کر لیا ہے، توقع ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے معاملے کی حساسیت کا خیال رکھیں گے اور ایک مہینے کے اندر اندر مناسب کارروائی کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں