’ہمارا دباؤ لبرل فاشسٹوں پر کم اور مذہبی شدت پسندوں پر زیادہ ہے‘

بیرسٹر ظفر اللہ

پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے قانون و انصاف بیرسٹر محمد ظفر اللہ خان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کو روکنے کے لیے سرکاری مداخلت سے زیادہ اہم اور ضروری چیز معاشرتی رویوں کو بدلنا ہے جو ایک طرف مذہبی اور دوسری طرف لبرل فاشزم کی انتہائی حدوں کو چھو رہے ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا پر مبینہ گستاخانہ مواد کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق توہین مذہب سے متعلق قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے لیکن اصل چیلنج سماجی رویوں میں تبدیلی لانا ہے۔

’ٹھوس شواہد ہیں تو پانچ بلاگرز کو وطن واپس لایا جائے‘

وہ ہزار کون تھے؟ فیس بک سے معلومات کی درخواست

’دونوں طرف سمجھانے کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو لبرل فاشزم کے نام پر لوگوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں، انھیں بھی تہذیب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ اور وہ لوگ جو جرم ہو جائے تو خود ہی سزائیں دینا شروع کر دیں انھیں بھی سمجھانے کی ضرورت ہے۔‘

ظفراللہ خان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں انتہا پسند لوگ اقلیت میں ہیں اور ملک کی اکثریت اعتدال پسند ہے اور ان دونوں انتہاؤں کو درست نہیں سمجھتی۔

’ایک طرف لبرل فاشسٹ ہیں جو اپنی رائے ہم پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف مذہبی انتہا پسند ہیں جو اپنا حکم ہم پر لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ عوام کی اکثریت دونوں کے ساتھ نہیں ہے۔‘

انھوں نے تسلیم کیا کہ ان انتہا پسند سماجی رویوں میں تبدیلی کی کوشش میں بھی حکومت ہی کو پہل کرنی چاہیے۔

’ہم اس سلسلے میں یہی کر سکتے ہیں کہ قانونی طور پر غلط اور درست کو الگ الگ کریں جو ہم کر رہے ہیں۔ مثلاً ہماری حکومت ہی کے دور میں (سلمان تاثیر کے قاتل) ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا دباؤ لبرل فاشسٹوں پر کم اور مذہبی شدت پسندوں پر زیادہ ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں