مردم شماری: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شامل کرنے کا مطالبہ

مردم شماری تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مردم شماری میں یہ شرط عائد ہے کہ جو شخص چھ ماہ سے باہر ہے اسے شمار نہیں جائے گا

خیبر پختونخوا حکومت نے حالیہ مردم شماری میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے رابطہ کیا جائے گا۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس وقت صرف خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ساٹھ سے ستر لاکھ افراد غیر ممالک میں روزگار کے لیے مقیم ہیں اور وہاں سے بھاری زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں لیکن حالیہ مردم شماری میں انھیں شمار ہی نہیں کیا جا رہا۔

انھوں نے کہا کہ صرف تین لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں جبکہ وہ پاکستانی جو غیر قانونی طور پر مختلف ممالک میں مقیم ہیں ان کی تعداد الگ ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں پاکستانیوں خاص پر طور پر خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے پشتونوں کی بڑی تعداد رہایش پزیر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری میں یہ شرط عائد ہے کہ جو شخص چھ ماہ سے باہر ہے اسے شمار نہیں جائے گا لیکن یہاں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ غیر ممالک میں روزگار کے لیے مقیم ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو مردم شماری میں شامل کیا جائے۔

پاکستان میں جاری مردم شماری کے حوالے سے لوگوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اقلیتوں کے خانے میں سکھوں کا نام نہ ہونا، اور قبائلی علاقوں میں مقیم لوگوں کی شکایات سامنے آچکی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقلیتوں کے خانے میں سکھوں کا نام نہ ہونا، اور قبائلی علاقوں میں مقیم لوگوں کی شکایات سامنے آچکی ہیں

عنایت اللہ خان نے کہا کہ پنجاب کے چالیس فیصد جبکہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے تقریباً اکتیس فیصد لوگ غیر ممالک میں کام کرتے ہیں اور اتنی بڑی آبادی کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس طرف توجہ دے ورنہ ان کے پاس تمام راستے کھلے ہیں جہاں سے وہ آواز اٹھا سکتے ہیں اس میں وہ آل پارٹیز کانفرنس طلب کرسکتے ہیں اور یا عدالت جا سکتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا کہ کیا یہ مطالبہ وہ ایک وزیر کی حیثیت سے کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز صوبائی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا جس پر کابینہ کے اراکین اس کی حمایت کی تھی جس کے بعد وزیر اعلی پرویز خٹک نے چیف سیکرٹری سے کہا ہے کہ وہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کے نوٹس میں لائیں تاکہ اسے فوری طور پر حل کیا جائے۔

عنایت اللہ خان نے کہا کہ مردم شماری کی بنیاد پر قومی اور صوبائی حلقے بنتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر صوبوں کے درمیان وسائل تقسیم ہوتے ہیں اگر اس میں کہیں کوتاہی کی جائے گی تو اس سے ان صوبے کے حقوق پامال ہوں گے۔

اسی بارے میں