’اس سال بھی پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی وزارتِ پانی و بجلی نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھاتے ہوئے شہروں میں چھ جبکہ دیہی علاقوں میں آٹھ گھنٹے کر دیا ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے حکام کے مطابق اپریل میں تربیلا اور منگلا ڈیم میں پانی کی سطح معمول پر آ جائے گی، جس کے بعد لوڈ شیڈنگ میں کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔

’بجلی کے نظام پر تقریباً تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری‘

بجلی کے بغیر گوادر کی ترقی صرف ایک خواب

تاہم انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) نے کہا ہے کہ سرکلر ڈیٹ میں اضافے اور حکومت کی جانب سے عدم ادائیگی کے باعث بجلی کی پیداوار کم ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ آئی پی پیز کا دعوی ہے کہ حکومت کے اپنے ریکارڈ کے مطابق اس کے ذمہ 253 ارب روپے کی رقم واجب الادا ہے۔ جبکہ سرکاری کمپنیوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی حجم 414 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

شعبۂ توانائی کے ماہر سہیل احمد کہتے ہیں کہ ’صرف گردشی قرضوں کی ادائیگی ہی مسئلہ نہیں، بلکہ بجلی گھروں کی کم صلاحیت اور زیادہ لاگت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو بجلی کو مہنگا کررہی ہے۔‘

واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس مارچ میں ہائیڈل جنریشن کی اوسط کم ہو کر دو ہزار 560 میگاواٹ تھی۔ جو رواں ہفتے ایک ہزار 410 میگا واٹ ہو گئی ہے۔

سہیل احمد کے مطابق بجلی پیدا کرنے کے لیے صرف ’فیول آئل پر انحصار کرنا قیمت بڑھا رہا ہے‘۔ ان کے خیال میں بجلی پیدا کرنے کے دیگر ذرائع یعنی پانی، کوئلہ اور گیس کو استعمال میں لایا جائے تو پیسوں کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے گذشتہ ہفتے ایوان بالا میں سرکلر ڈیٹ میں اضافہ تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ گردشی قرضے فروری میں 393 ارب روپے ہو گئے تھے۔ انھوں نے آئی پی پیز کی جانب سے اخبارات کے ذریعے نوٹس بھجوانے کا عمل ’گمراہ کن‘ قرار دیا۔ آئی پی پیز نے اپنے اشتہار میں سرکلر ڈیٹ پر حکومتی گارنٹیاں طلب کرنے کی دھمکی دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption نیشل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 14 ہزار 500 میگا واٹ جبکہ پیداوار گیارہ ہزار ہے

واپڈا کے سابق چیئرمین شمس الملک کہتے ہیں کہ اب توانائی بحران کا حل ’مشکل نظر آتا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان 'سستے ہائیڈل ذریعے سے بجلی پیدا کرنے کی بجائے پندرہ سے بیس روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے'۔

پاکستان کی مجموعی پیداواری صلاحیت اکیس ہزار 143 میگا واٹ ہے۔ نیشل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب 14 ہزار 500 میگا واٹ جبکہ پیداوار گیارہ ہزار ہے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح کم ہونے سے شارٹ فال پینتیس سو میگا واٹ ہو گیا ہے۔

سہیل احمد کے مطابق رواں برس ساہیوال پاور پلانٹ اور پھر بن قاسم پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار کا آغاز ہوتے ہی ملک میں 'لوڈ شیڈنگ میں کمی تو واقع ہو سکتی ہے، مگر اس کا مکمل خاتمہ فی الحال ممکن نہیں'۔

اس سے پہلے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ 2018 تک پاکستان کے پاس اتنی بجلی ہوگی کہ 'ہم انڈیا کو بھی فروخت کر سکیں گے'۔

اسی بارے میں