پختونخواہ کی مردم شماری میں کل 20 خواتین شمارکنندہ، فاٹا میں کوئی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان کے ادارے برائے شماریات کے مطابق خیبر پختونخواہ کے کے لیے کل 20 خواتین شمارکنندگان کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ فاٹا میں کسی خاتون کو عملے کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا ہے۔

پاکستان میں وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں جاری مردم شماری کے عمل میں خواتین عملے کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہاں خواتین کے درست اعداد و شمار جمع کرنے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی مردم شماری کے عملے میں خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے اس صوبے کے بعض علاقوں سے بھی خواتین کو شمار نہ کیے جانے کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان کے ادارے برائے شماریات کے مطابق خیبر پختونخواہ کے کے لیے کل 20 خواتین شمارکنندگان کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ فاٹا میں کسی خاتون کو عملے کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا ہے۔

خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں بھی محمکہ شمایارت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کسی خاتون شمارکنندہ کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا ہے جس سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ شاید اس سے خواتین کی درست تعداد مرتب کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔

ملک بھر میں جاری اس عمل میں 118826 افراد پر مشتمل سٹاف حصہ لے رہا ہے جس میں تقریباً 23 ہزار خواتین کارکن شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ان ٹیموں کے تحفظ کے پیش نطر دو لاکھ فوجی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں جو ان ٹیموں کے ہمراہ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

ادھر فاٹا میں موجود عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم بعض تنظیموں نے خواتین سٹاف کی عدم موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

فاٹا میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم قبائلی خور کی ایک سرکردہ رہنما پروفیسر ڈاکٹر نورین نصیر کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے حکومت کی طرف سے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخواہ میں خواتین کے مسائل کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا گیا جس کا ایک بڑا ثبوت حالیہ مردم شماری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب خواتین کا عملہ ہی موجود نہیں ہوگا تو کیسے عورتوں کی درست اعداد و شمار سامنے آسکیں گے۔‘

ڈاکٹر نورین نصیر کے مطابق بدقسمتی سے قبائلی عوام اپنی خواتین کے بارے میں معلومات کو غیرت سے جوڑتے رہے ہیں لہٰذا ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی قبائلی عورت کسی غیر مرد کو اپنے یا خاندان کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ 1998 کی مردم شماری میں فاٹا میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کم رہی تھی حالانکہ دنیا بھر میں ہر جگہ خواتین کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس کی وجہ شاید یہی تھی کہ قبائلی عوام عورتوں کے متعلق انتہائی حساس ہونے کی وجہ سے درست معلومات فراہم نہیں کرتے۔

ان کے بقول اس ضمن میں حکومت اور ریاستی اداروں کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا ورنہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فاٹا کی خواتین کی اصل تعداد کا تعین نہیں ہوسکے گا۔

مردم شماری کے پہلے مرحلے میں اورکزئی واحد قبائلی ایجنسی ہے جہاں شہریوں کی اندارج کا سلسلہ جاری ہے ۔ لیکن یہاں بھی مردم شماری ٹیموں کے ہمراہ خواتین شمار کنندگان کی عدم موجودگی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ تاہم فاٹا کے دیگر علاقوں اور نیم خودمختار قبائلی مقامات پر مردم شماری کا آغاز دوسرے مرحلے میں مکمل کیا جائے گا۔

پشاور کے اسسٹنٹ کمشنر الطاف احمد شیخ کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ حکومت کی طرف سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس عمل کے لیے زیادہ تر مرد عملے کو ہی تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ لوگوں کو شمار کرنا ایک سخت اور ٹیکنکل کام ہے اور پھر صبح سے لے رات تک اس طریقہ کار میں عورتوں کو شامل کرنا قدرے مشکل سمجھا گیا تھا اسی وجہ سے ان کی تعداد کم رکھی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کے عمل میں سٹاف کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے لہذا حکومت نہیں چاہتی تھی کہ کسی واقعے کی صورت میں خواتین سٹاف کو کوئی نقصان پہنچے۔

ایک سوال کے جواب میں اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ کسی علاقے سے ایسی اطلاعات نہیں کہ جہاں خواتین شمار کنندگان کی عدم موجودگی کی وجہ سے عورتیں اس عمل سے باہر رہ گئی ہوں۔ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا عملہ اس بات کا خاص خیال رکھ رہے ہیں کہ صوبے اور فاٹا میں کوئی ایک گھر اور اس کے مکین شمار کے عمل سے باہر نہ رہ جائے۔

اسی بارے میں