فوجی عدالتیں پھر آئین کا حصہ بن گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واضح رہے کہ جنوری 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق 21 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں منظور کی گئی تھی۔

پاکستان میں صدرِ مملکت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع اور فوجی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق 23ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد یہ ترمیم آئین کا حصہ بن گئی ہے۔

23ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے منظور ہو چکی ہے تاہم اس بل پر رائے شماری کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے اس پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اگر فوجی عدالتیں بھی ناکام ہو گئیں تو۔۔۔

فوجی عدالتیں: ’ہم اسی بل سے دوبارہ ڈسے جا رہے ہیں‘

فوجی عدالتوں میں توسیع پر تنازع کیا؟

پاکستان کی ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں جن تین سینیٹرز نے 23 ویں ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیے ان میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی گل بشریٰ، عثمان کاکڑ اور اعظم خان موسیٰ خیل شامل ہیں۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سردار اعظم خان موسیٰ خیل نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے بل کی منظوری کے دن کو 'سیاہ دن' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نے خود دہشت گردوں کو پالا، آج جمہوری لوگ فوجی عدالتوں کے مددگار ہیں۔‘

انھوں نے اس بل کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام اراکین پارلیمنٹ ’پاناما لیکس پر فوجی عدالت قائم کرنے پر ہرگز تیار نہ ہوں گے۔‘

رائے شماری سے قبل ہونے والی بحث کے دوران سینیٹر سحر کامران نے اس دن کو ’پارلیمان کی شکست‘ کا دن قرار دیا جس پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کو شکست نہیں دی جا سکتی، ’پارلیمنٹ سمجھوتہ کرتی ہے۔‘

واضح رہے کہ جنوری 2015 میں فوجی عدالتوں کے قیام سے متعلق 21 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں منظور کی گئی تھی۔

اسی بارے میں