ننکانہ صاحب میں ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن کا قتل

ملک سلیم لطیف
Image caption جماعتِ احمدیہ کے مطابق ملک سلیم لطیف نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن تھے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب میں جمعرات کی صبح جماعتِ احمدیہ سے تعلق رکھنے والے وکیل ملک سلیم لطیف کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

جماعتِ احمدیہ کے مطابق ملک سلیم لطیف نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن تھے۔

ننکانہ صاحب پولیس کے مطابق ملک سلیم لطیف کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے دفتر جا رہے تھے۔ ڈی پی او ننکانہ صاحب صاحبزادہ بلال عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک سلیم لطیف موٹر سائیکل پر سوار تھے اور ابتدائی تفتیش کے مطابق ان کو گھات لگا کر قتل کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کی حملے میں ملک سلیم لطیف کے بییٹے محفوظ رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور کی تشاندہی کر لی گئی ہے تاہم انہوں نے اس کا نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے کیونکہ پولیس کی تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز سے بات کرتے ہوئے ڈی پی او ننکانہ صاحب صاحبزادہ بلال عمر نے بتایا کہ اب تک کی تفتیش میں حملہ آور کا کوئی سابقہ کرمنل ریکارڈ یا کسی تنظیم سے تعلق سامنے نہیں آیا ہے۔

حملہ آور تاحال گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔

اس سے قبل ننکانہ صاحب سٹی پولیس سٹیشن کے انچارج محمد نواز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کی نشاندہی سکیورٹی کیمروں کی مدد سے کی گئی ہے۔ حملے میں بارہ بور شاٹ گن استعمال کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کی وجہ کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ملک سلیم لطیف کی لاش پورسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے جس کے بعد اس کو لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا۔

جماعتِ احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملک سلیم لطیف نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے کزن اور ننکانہ صاحب میں جاعتِ احمدیہ کے صدر تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک سلیم لطیف کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ ان کے خیال میں انہیں محض احمدی ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ ملک سلیم لطیف نے پسماندگان میں دو بیٹے اور ایک بیٹی سوگوار چھوڑے ہیں۔

ملک سلیم لطیف کے قتل کی مزمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جماعتِ احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز مہم جاری ہے۔

جماعتِ احمدیہ پاکستان کی طرف سے ایک سالانہ رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران احمدی برادری کے خلاف سترہ سو سے زائد نفرت انگیز خبریں اور تین سو تیرہ مضامین شائع کیے گئے تھے۔

جماعتِ احمدیہ پاکستان کے ترجمان سلیم الدین کا کہنا تھا کہ ایسی خبروں سے ان کی جماعت کہ لوگوں کے خلاف ملک میں نفرت بڑھی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران احمدی جماعت کے 6 افراد کو قتل کیا گیا۔

اسی بارے میں