پاکستان میں ’500 سے زیادہ ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Radio Pakistan
Image caption پاکستان کے وزیرِ برائے مذہبی امور و ہم آہنگی سردار محمد یوسف

پاکستان کے وزیر برائے مذہبی امور و ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ گستاخانہ مواد والی 700 سے زائد ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے جن میں سے 565 ویب سائٹس کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں جمعرات کو پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی وزارت کو 8670 شکایتی خطوط ملے تھے جن میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی موجودگی کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو کسی بھی ویب سائٹ جس پر گستاخانہ مواد ہو اس کو فوری بلاک کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

توہین مذہب قانون کا پاکستان میں ارتقاء

سوشل میڈیا پر پابندی مسئلے کا حل نہیں: وزارت داخلہ

’عدالت ریفرینڈم کروانے کا بھی حکم دے سکتی ہے‘

واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستانی حکام کو سوشل میڈیا پر موجود تمام مذہب مخالف اور توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ حکم ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز مواد کی سوشل میڈیا پر موجودگی کے بارے میں درخواست کی سماعت کے دوران دیا تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر مذہبِ اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کی مبینہ اشاعت کے خلاف اسلام آباد کی ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

عدالتی حکم کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پرگستاخانہ مواد کو ہٹانے اور اس کا راستہ روکنے کے لیے فوری طور پر موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ تمام متعلقہ ادارے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد پھیلانے والوں کا سراغ لگائیں اور انھیں کڑی سزا دلانے کے لیے متحرک ہو جائیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ماضی میں بھی توہین آمیز مواد کی موجودگی پر مختلف ویب سائٹس پر بندش لگائی جا چکی ہے۔

2012 میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں قابلِ اعتراض فلم 'انوسنس آف مسلمز' کی جھلکیاں دکھانے پر دنیا کی مقبول ترین ویڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی تھی اور تقریباً 40 ماہ کی بندش کے بعد جنوری 2016 میں اسے اس وقت بحال کیا گیا تھا جب یوٹیوب نے پاکستان کا مقامی ورژن لانچ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں