ڈاکٹر عاصم حسین کی 19 ماہ بعد رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈاکٹر عاصم کے خلاف 462 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزام کے تحت مقدمات قائم ہیں

پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر اور سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین کو جمعے کو جناح ہسپتال سے رہا کردیا گیا ہے تاہم ان کی علالت کے سبب انہیں وہاں سے سیدھا ضیا الدین ہسپتال لے جایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر عاصم کے وکیل قادر خان منوخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ کافی عرصے سے ان کے موکل علالت کی وجہ سے جناح ہسپتال میں تھے جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بدعنوانی کے دو مقدمات میں سندھ ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پر ڈاکٹرعاصم کی درخواستِ ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کے ایک کیس میں ان کی ضمانت کی درخواست گذشتہ سال نومبر میں منظور کی جاچکی تھی۔

اس سے پہلے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم حسین کی طبی وجوہات کی بنا پر ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں 25، 25 لاکھ کے دو مچلکے بطور زرِ ضمانت جمع کرنے کا حکم دیا تھا۔

ڈاکٹر عاصم کے خلاف 462 ارب روپے کی بدعنوانی کے الزام کے تحت مقدمات قائم ہیں۔

ڈاکٹر عاصم کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور وہ ان کی اسیری کے دوران ان کے معالج بھی رہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد انہیں 2008 چیئرمین نیشنل ری کنسٹرکشن بیورو تعینات کیا گیا، 2009 میں سینیٹر منتخب کیا گیا لیکن سپریم کورٹ کے دوہری شہریت کے بارے میں فیصلے کے بعد انہیں 2012 میں مستعفی ہونا پڑا۔

مستعفی ہونے سے قبل وہ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر بھی رہے اور اس عرصے میں سی این جی اسٹیشن کے پرمٹ جاری کرنے کے علاوہ دیگر معاملات میں ان کے کردار پر مخالفین تنقید کرتے رہے ہیں۔

ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ رینجرز نے اگست 2015 میں حراست میں لیا تھا۔

ان کی گرفتاری پر سندھ حکومت اور وفاقی حکومت میں اختلافات بھی پیدا ہوئے تھے اور سابق صدر آصف علی زرداری کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ میاں نواز شریف نے 1990 کی دہائی کی انتقامی سیاست کو دہرایا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں