’سیاست دانوں کی سپاٹ فکسنگ‘

شرجیل میمن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شرجیل میمین کا گاڑی کے آتے بھاگتے رینجرز کے سپاہی بھی تنقید کی زد میں آئے۔

سوشلستان سہما ہوا ہے اور اسے پے در پے اشتہارات اور مختلف بیانات کی وجہ سے اور ڈرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ صبح شام پاکستان ٹی وی چینلز پر اشہتارات کے ذریعے عوام کی بقول ایک سوشل میڈیا صارف کے بتایا جا رہا ہے کہ 'آپ کی اوقات کیا ہے' اور آئین آپ کو فلاں فلاں حقوق تو دیتا ہے مگر اپنی اوقات میں رہیں اور سرخ لائن کراس کرنے سے پرہیز کریں۔'

سیاست دانوں کی سپاٹ فکسنگ

پاکستان پیپلز پارٹی کے مختلف رہنماؤں کے خلاف کیسز اور سزائیں کچھ اس طرح سے اختتام پذیر ہوئیں کہ لوگ ان کی ٹائمنگ پر سوا کیے بغیر نہ رہ سکے۔

تنزیلہ عمران خان نے لکھا 'ایان علی، حامد سعید کاظمی شرجیل میمن اور اب ڈاکٹر عاصم حسین کی عدالت سے ضمانت۔ یہ کیا نظام ہے۔'

تجزیہ کار ایاز لطیف پلیجو کا خیال تھا کہ 'لوگوں کو اچانک رہا کرنا ڈیل کا تاثر دیتا ہے۔'

مظہر عباس نے لکھا کہ 'پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز پاناما کے فیصلے سے پہلے سائیڈ میچز کھیل رہے ہیں جبکہ عمران خان تھرڈ اپمائر سے نواز شریف کے خلاف اپنی اپیل کے فیصلے کے منتظر ہیں۔'

ڈاکٹر عاصم کے حوالے سے انھوں نے لکھا کہ 'انھوں نے دو سال جیل میں گزارے۔ ان کی رہائی نظام کے حوالے سے سوالیہ نشان ہے۔ ۔'

منصور علی خان نے لکھا 'کیا شرجیل میمن کی واپسی، ایان علی کی روانگی اور زرداری کی نعرے بازی سب کے تانے بانے ملتے ہیں؟'

سھیل چیمہ نے لکھا کہ ان سب افراد کی بریت کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ 'جمہوریت بہترین انتقام ہے۔'

کراچی کا بن قاسم پارک

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بن قاسم ہارک کراچی

کراچی کے متمول علاقے کلفٹن میں واقع بن قاسم پارک کو گذشتہ دنوں بحریہ ٹاؤن کے حوالے کیا گیا جس پر صبح سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اس شدید تنقید کے نتیجے میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے ٹوئٹر پر کہا کہ بہت بدقسمتی کی بات ہے جس طرح لوگوں نے اس حوالے سے ردِ عمل دکھایا ہے میں وضاحت کرنا چاہوں گا کہ ہم یہ پارک خرید نہیں رہے نہ ہی ہم حکومت کے کسی ادارے سے ایک پائی وصول کریں گے۔ اور یقین رکھیں کہ ہم اُس وقت تک پارک نہیں لیں گے جب تک تمام فریق اسے ہمارے حوالے کرنے پر اتفاق نہیں کر لیتے۔'

تاہم ایک ٹوئٹر صارف حرا نے سوال کیا کہ 'جب پارک کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے تو اسے بحریہ کو دینے کا کیا مقصد ہے؟'

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ہم ذکر کریں گے پاکستانی فائزہ ایس خان کا جو انڈیا میں رہتی ہیں اور بھوپال ہاؤس کے نام سے ٹویٹ کرتی ہیں۔ کتابوں، انڈیا اور دنیا بھر میں ہونے والے واقعات پر ٹویٹ کرنے کے علاوہ فائزہ کتابوں کی تصنیف کے حوالے سے بھی بات کرتی ہیں۔ تو اگر آپ کو کتب بینی کا شوق ہے یا کتاب لکھنا چاہتے ہیں تو فائزہ اس لحاظ سے زبردست ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Sajjad
Image caption سرحد کھلنے کے نتیجے میں ان پھنسے ہوئے تاجروں کی بھی سنی گئی
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاہور میں صوفی شاہ حیسن جنہیں مادھو لال حسین کے مزار کے قریب روشنیوں کا میلہ

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں