خواتین کی داد رسی کا پہلا امتحان

دادرسی مرکز تصویر کے کاپی رائٹ VAWC
Image caption اس مرکز میں خواتین کی مدد کے لیے تمام جدید سہولیات مہیا کی گئی ہیں

حال ہی میں ملتان میں خواتین کے لیے دادرسی مرکز کے حقیقی امتحان کا آغاز دو روز قبل ہوا جب اس میں موجود خواتین کے تھانے میں پہلی رپورٹ یعنی ایف آئی آر درج کی گئی۔

اس رپورٹ میں چند افراد کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس مرکز میں خواتین عملہ خواتین کی شکایات سننے سے لے کر فرسٹ ایڈ، طبی معائنے، نفسیاتی کونسلنگ، پولیس رپورٹ اور تفتیش تک سب کچھ ایک ہی چھت کے تلے فراہم کرتا ہے۔

٭ ملتان میں خواتین کے لیے دادرسی مرکز قائم

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے درخواست گزار خاتون نے نام اور ان کے کیس کے حوالے سے تفصیلات ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو ملزمان کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ اپنی اور اپنے بچوں کی سلامتی کے بارے میں فکر مند ہیں۔

تاہم انھوں نے دادرسی کے مرکز کے بارے میں سوال پر بتایا کہ انھیں وہاں مکمل توجہ ملی اور وہ تمام تر سہولیات سے مطمئن ہیں۔

’یہی مجھے اپنا سہارا لگ رہا ہے۔ جب تک ملزمان پکڑے نہیں جاتے میں اس کیس پر کچھ نہیں کہنا چاہتی کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ (ملزمان) کچھ کر نہ دیں۔‘

درخواست گزار خاتون کو پناہ اور اپنی حفاظت کی ضمانت درکار ہے اور ملتان میں قائم کیے جانے والے اس خواتین کے داد رسی کے مرکز کا مقصد وہی فراہم کرنا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ یہ مرکز ان کی مدد کیسے کر پائے گا؟

مکمل طور پر خواتین کی طرف سے چلائے جانے والے اس مرکز میں قائم ویمن پولیس اسٹیشن کی انچارج نرمین نے بی بی سی کو بتایا کہ درخواست گزار خاتون واقعے کے بعد سے اپنے رشتہ داورں کے گھر پر قیام پذیر ہیں۔

مرکز آمد پر ان کی شکایت سننے کے بعد گواہان کی موجودگی میں ان کی ایف آئی آر درج کی گئی جس پر کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

تاہم پنجاب کے سٹریٹیجک ریفارم یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل سلمان صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکز کے اندر تو نہیں مگر ایسی جگہوں کا بندوبست کیا گیا ہے جہاں ایسی خواتین جو اپنی جان کو خطرہ محسوس کریں انھیں پناہ فراہم کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں خصوصاٌ درخواست گزار خاتون ویمن پروٹیکشن ایکٹ کے تحت پروٹیکشن آرڈر بھی لے سکتی ہیں۔ ’اس کے تحت فیملی کورٹ نے سات دن میں کیس کی سنوائی مکمل کرنی ہوتی ہے جس کی بعد 30 سے 60 دن کے اندر انھوں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تب تک وہ (خاتون) حفاظت میں رہ سکتی ہیں۔‘

اگر فیصلہ خاتون کے حق میں آ جاتا ہے تو ان کو ایک پروٹیکشن آرڈر بھی دے دیا جائے گا جس کے مطابق وہ افراد جن کے خلاف مقدمہ ہے خاتون سے ایک مخصوص فاصلے پر رہیں گے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ سزا اور جرمانہ عائد ہو گا۔

سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ درخواست گزار خاتون کے کیس کی تفتیش وغیرہ مرکز ہی میں کی جائے گی۔

’اب جب وہ آئی ہیں تو ان کو کسی اور ڈیپارٹمنٹ میں نہیں جانا پڑا۔ ان کے طبی معائنے کا بندوبست کروایا گیا جس کے بعد وہاں موجود خاتون پراسیکیوٹر نے پولیس کی معاونت کی کہ ان کے الزامات اور شواہد کی روشنی میں ایف آئی آر میں کون سی دفعات لگنی چاہییں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل اختیار کیے جانے والے طریقہ کار میں ایک بڑی خام یہ تھی کہ ایف آئی آر پہلے درج کر لی جاتی تھی تو اس میں غلط شقیں بھی لگ جاتی تھیں۔

مگر اس مرکز پر کیونکہ پہلے دن ہی سے پراسیکیوٹر کی شمولیت ہے، سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ ایسی غلطی کے امکانات نہیں۔ کیس کی تفتیش مرکز پر مامور خاتون پولیس آفیسر کریں گی اور جس علاقے میں واقعہ ہوا ہے وہاں کی پولیس شواہد اکٹھے کرنے میں ان کی مدد کرے گی۔ مرکز پر مامور خاتون پراسیکیوٹر عدالت میں کیس کی پیروی کریں گی۔

انھوں نے مزید وضاحت کی کہ اس مرکز کا مقصد صرف تشدد کے خلاف خواتین کی دادرسی نہیں۔ خواتین کے اس مرکز سے رابطہ کرنے سے کسی قسم کی شرائط یا ممانعت مشروط نہیں ہے۔ اگر خواتین کسی مسئلے پر صرف قانونی مشورہ لینا چاہیں، طبی معائنہ کروانا چاہیں یا مصالحت کروانا چاہتی ہوں تو بھی وہ یہاں رابطہ کر سکتی ہیں۔

سلمان صوفی کا کہنا تھا کہ اس مرکز کا قیام ہی اس طرز پر کیا گیا ہے کہ یہ خواتین کے لیے پناہ گاہ کا کام کرے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مرکز کے قیام کے ایک ہفتے کے اندر ہی 18 سے زائد کیس آ چکے ہیں تاہم ان میں سے ایک کی باقاعدہ رپورٹ درج ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ دو خواتین آئی تھیں جن کے گھر میں جھگڑے ہوئے تھے، ان کی مصالحت کروائی گئی جس کے بعد اب وہ واپس اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں