بس اتنا کہوں گا آرمی چیف جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں: عمران خان ملاقات کے بعد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عمران خان نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔ 2014 میں پی ٹی آئی کے 126 روزہ دھرنے کے دوران بھی عمران خان نے اس وقت کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات کے بارے میں کہا ہے کہ 'صرف ایک چیز کہوں گا، خوش خبری یہ ہے کہ آرمی چیف پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بات سنیچر کو خیبر پختونخوا میں بلین ٹری سونامی کی تقریب میں کہی۔

٭’راستے بند کر کے نواز شریف ملک کو داؤ پر لگا رہے ہیں‘

جمعے کی شب پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کی تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی ہے۔ اس ٹویٹ سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تہلکہ سا مچ گیا۔

میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ کے مطابق اس ملاقات کا مقصد عمران خان کا فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کے عہدے کی تقرری کی مبارک باد دینی تھی جس پر وہ چار ماہ قبل فائز ہوئے تھے۔ ٹویٹ کے مطابق کئی دوسرے امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

پی ٹی آئی کے رہنما نعیم الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق بھی آرمی چیف کو مبارک باد دینے کا کوئی ذکر نہیں تھا لیکن یہ ضرور بتایا گیا کہ ملاقات کی درخواست پی ٹی آئی نے دی تھی تاکہ حال ہی میں پاک افغان سرحد کی بندش کے حوالے سے پیدا ہونے والے حالات کی وضاحت لی جائے اور ساتھ ساتھ افغان پناہ گزین اور تجارت کے بارے میں بات چیت کی جائے۔

نعیم الحق نے مزید یہ بھی بتایا کہ اس ملاقات میں عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آپریشن رد الفساد کے بارے میں بھی گفتگو کی اور انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ملاقات کو صرف ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

اس ملاقات کے بعد سے سیاسی منظر عام کو دیکھنے والوں کے ذہنوں میں مسلسل یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا اور ایسے وقت میں جب وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچے پاناما کیس کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اس ملاقات کی وجہ کیا تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عمران خان نے پاک فوج کے سربراہ سے ملاقات کی تھی۔ 2014 میں پی ٹی آئی کے 126 روزہ دھرنے کے دوران بھی عمران خان نے اس وقت کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کے دھرنے کے باعث نواز حکومت شدید دباؤ کا شکار تھی اور ان کی پارٹی پر الزامات تھے کہ ان کو فوج کی حمایت شامل ہے۔

اگست 2014 میں اس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید نے الزام لگایا تھا کہ عمران خان کے دھرنے کے پیچھے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل شجاع پاشا کا ہاتھ ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آضف نے کہا کہ جنرل شجاع پاشا کے بعد آنے والے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام بھی نواز حکومت کے خلاف عمران خان کی پارٹی کی حمایت کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پی ٹی آئی کے مطابق ملاقات کی درخواست پی ٹی آئی نے دی تھی تاکہ حال ہی میں پاک افغان سرحد کی بندش کے حوالے سے پیدا ہونے والے حالات کی وضاحت لی جائے اور ساتھ ساتھ افغان پناہ گزین اور تجارت کے بارے میں بات چیت کی جائے۔

عمران خان نے اگست 2015 میں نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان الزامات کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے دوران انھوں نے جنرل ظہیر الاسلام سے کوئی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی آئی ایس آئی کی کوئی مدد حاصل کی لیکن انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ دھرنے سے قبل جنرل ظہیر الاسلام سے ملاقات کر چکے تھے جن میں ان دونوں نے دہشت گردی اور اس کے انسداد کے بارے میں گفتگو کی تھی۔

جنرل آصف غفور کی ٹویٹ کے بعد سے سوالات گردش میں ہیں کہ آیا اس ملاقات کا مقصد ایک بار پھر حکومت کے خلاف کوئی کارروائی کرنا تو نہیں ہے۔ اس سوال کے جواب میں تجزیہ نگار امتیاز گل نے کہا کہ یہ ملاقات ملک کے دو اہم سٹیک ہولڈرز کے درمیان تھی۔

وہ سمجتھے ہیں کہ 'اس ملاقات کے بارے میں اتنے خدشات درست نہیں ہیں۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان نے شاید اپنی کچھ شکایات بتائی ہوں۔'

امتیاز گل نے مزید کہا کہ ماضی کے برعکس جب سیاست دان فوجی حکام سے چھپ چھپ کر ملتے تھے، عمران خان کی اس ملاقات جس کا برملا اعلان کیا گیا ہو، ایک اچھی روایت ہے۔ 'فوج کا ملکی سیاست میں ایک اہم کردار ہے اور عمران خان کا ان سے ملنے پر کوئی حرج نہیں۔'

البتہ کچھ مبصرین نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ چند دن قبل پی ٹی آئی کے جانب سے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو سعودی حکومت کی قائم شدہ 39 ملکوں کی فوج کی قیادت ملنے پر دیے جانے والے این او سی کی مخالفت کی تھی اور کہیں یہ ملاقات اس حوالے سے پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے تو نہیں تھی۔

اسی بارے میں