شہر کی بے چراغ گلیوں میں!

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کی بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت اکیس ہزار 143 میگا واٹ ہے۔

کل ایک خبر نظر سے گزری اور دل جو پہلے ہی اڑا اڑا رہتا ہے بالکل ہی بیٹھ گیا، آنکھوں کے آگے تر مرے سے ناچ گئے۔ خبر میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ پیارے بچو! بجلی اس سال بھی پچھلے بہت سے برسوں کی طرح، فقط چند گھنٹوں کے لیے آئے گی، ہو شیار خبردار!

خادمِ اعلیٰ نے کئی بار بہت ہی زور وشور سے توانائی کے بحران پہ قابو پانے کا اعلان کیا ہے۔ خادمِ اعلیٰ کی دیگر خصو صیات کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی ذوق اور خاص کر رومانوی اور انقلابی ادب کے لیے ان کی والہانہ محبت واقعی قابلِ قدر ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ کہاں بجلی کا بحران، کہاں رومانوی شاعری؟ یہی تو بری عادت ہے عوام کی، ذرا صبر نہیں۔

بزرگ کہہ گئے ہیں کہ حاکم خدا کا سایہ ہوتا ہے۔ اب اپنی فطری سادگی کے باعث موصوف خود کو خادم ہی کیوں نہ کہلائیں مگر ہیں تو ظلِ الہیٰ ۔ ظلِ الہیٰ کی فطرت میں سخا بھی بے بہا ہے چنانچہ یہ جو اس برس کی لوڈ شیدنگ ہے اس کے پیچھے ایک بڑی مصلحت ہے جو آپ کو کچھ دیر میں نظر آئے گی اور جب نظر آئے گی تو آپ سر دھنیں گے اور تا دیر دھنیں گے۔

پاکستان میں برقی توانائی کی کہانی بہت لمبی تو نہیں مگر بہت دل گداز ہے۔ کمزور دل افراد سے التجا ہے کہ وہ یہ کہانی نہ پڑھیں اور اگر پڑھنا ان کی مجبوری ہے تو پانی کا گلاس اور رومال ساتھ رکھ لیں۔ سنہ 1960 میں پاکستان میں سندھ طاس منصوبے کے ساتھ ہی توانائی کے شعبے میں انقلاب لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چونکہ یہ بھی ایک’سوچا سمجھا‘ انقلاب تھا، اس لیے اس کا انجام بھی وہی ہوا جو ایسے انقلابات کا ہوتا ہے۔

بجلی کی کمی پر قابو پانے اور اس کی وجوہات ڈھونڈھنا اور ڈھونڈتے ہی رہنا، اب ہمارا قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ گرمیوں کی وہ طویل راتیں، جن میں ٹھنڈی سفید چادروں پہ دیر تک جاگنے کا ارمان' گلزار صاحب' کے دل میں مچلا کرتا تھا اور اپنے ملک کی' رومان کش' پالیسیوں کے باعث وہ اس نعمت سے محروم رہے۔ وہ حسین راتیں ہمارے ملک پہ وارد ہونے ہی والی ہیں۔ مچھروں کی ہلکی ہلکی بھن بھن، رخِ روشن پہ پسینے کے چمکتے قطرے اور سفید چادروں پہ لیٹے لیٹے، استوائی خطوں کی مخصوص آب و ہوا کو رگ وپے میں سرایت کرتے ہوئے محسوس کرنا اور اس دوران اربابِ حل و عقد کے بارے میں نہایت نفیس گفتگو کرنا ہماری عادتِ ثانیہ بن چکی ہے۔

چاندنی سے دھلی ان اجلی راتوں میں جب آسمان پہ تاروں کی قندیلوں کے سوا کوئی رو شنی نہیں ہوتی تو دل میں عجیب عجیب خیالات آنے لگتے ہیں، جن میں سرِ فہرست وہ اقدامات ہوتے ہیں جن سے بجلی کی بچت کی جا سکے، کیونکہ یقیناً موجودہ حالات کے ذمہ دار ہم عوام ہی ہیں۔

ایسی ہی کسی سوچ بچار کے نتیجے میں کبھی یہ فیصلے کیے جاتے ہیں کہ بازاروں کے نیون سائن بند کر دیے جائیں۔ دفتروں میں ایک کے بجائے دو دن چھٹیاں دی جائیں( ہاسا نکلنے کی صورت میں فوری ایک گلاس پانی پی لیجیے) شادی کی تقریبات تین گھنٹے میں نمٹا دی جائیں، گھروں میں انرجی سیور برقی آلات استعمال کیے جائیں۔ سردیوں میں وقت ایک گھنٹہ پیچھے اور گرمیوں میں ایک گھنٹہ آگے کر دیا جائے۔ ( دوسرا گلاس بھی تیار رکھیے)وغیرہ وغیرہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption وزیر اعلی نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ 2018 تک پاکستان کے پاس اتنی بجلی ہوگی کہ 'ہم انڈیا کو بھی فروخت کر سکیں گے۔

شمسی توانائی اور بائیو گیس پلانٹس لگائے جا رہے ہیں اور یقیناً ان کے ٹھیکے اللہ کے کچھ برگزیدہ بندوں کو دیے جا چکے ہوں گے۔ اب حسد کا تو کچھ حل نہیں، حا لانکہ یہ بھی بارہا یاد دلایا جاتا ہے کہ محنت کر حسد نہ کر لیکن خیر کیا کریں؟ پہلے تو ان بے وقوف لوگوں نے اتنی محنت سے بنائے گئے انقلابی منصوبے کو فالتو بتیاں جلا کر ضائع کیا اور اب غریب گھر کی سلیقہ شعار بہو کی طرح بیٹھے سوچا کرتے ہیں کہ اس پرانے لحاف کی گوٹ سی کے ازار بند بنائیں اور چنی اور منو کے جھبلے نکالنے کے بعد بچے ہوئے کپڑے سے ابا جا ن کا کرتا کیسے بیونتا جائے؟

بھولے بادشاہو! جو لوگ ایک نسل کے اندر اندر خاک سے لاکھ بنا سکتے ہیں، ایک دکان سے اربوں روپے کی صنعتیں کھڑی کر سکتے ہیں وہ پوری دنیا کی فنی، مالی اور اخلاقی مدد اور پہلے سے موجود ایک انفراسٹرکچر کے باوجود بجلی کا بحران ختم نہیں کر سکتے؟ کر سکتے ہیں ، مگر ان عظیم لوگوں کے لیے مادی ترقی سے زیادہ اہمیت رومانوی ادب کے احیا کی ہے اوروہ یہ نہیں چاہتے کہ ' گلزار کی طرح آپ کے اور ہمارے دلوں میں بھی کوئی حسرت رہ جائے۔

تو عزیز ہم وطنو! نو جوانی کے دنوں میں جمع کیے گئے اشعار کی کاپیاں نکال لیجیے ایک درد بھری طویل گرم رات کی ابتداء ہوا چاہتی ہے، جس میں یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی!

متعلقہ عنوانات