سرگودھا: 20 افراد کے قاتلوں کا جسمانی ریمانڈ

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ضلع سرگودھا میں واقع دربار جہاں کے متولی نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے 20 افراد کو قتل کر دیا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع سرگودھا میں عدالت نے 20 افراد کے قتل کے مرکزی ملزم عبدالوحید اور ان کے تین ساتھی ملزمان محمد آصف، ظفر علی اور کاشف کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ہلاکتوں کا یہ واقعہ سنیچر کی شب سامنے آیا تھا جب پولیس کو علم ہوا کہ چک 95 شمالی نامی گاؤں میں قائم درگاہ علی محمد قلندر کے متولی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر تین خواتین سمیت 20 افراد کو لاٹھیوں اور چاقوؤں کے وار کر کے ہلاک کیا ہے۔

سرگودھا کے دربار میں 20 افراد کا قتل

پولیس نے عبدالوحید کو اس کے ساتھیوں سمیت حراست میں لینے کے بعد اس واقعے کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر سرگودھا لیاقت چٹھہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے۔

اس واقعے کی ایف آئی آر میں قتلِ عمد کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق تمام مادی شہادتوں اور آلات قتل کو برائے تجزیہ کیمیائی پنجاب فارانزک سائنس ایجنسی لاہور بھجوایا کا چکا ہے۔

عبدالوحید نے دورانِ تفتیش پولیس کو بتایا تھا کہ اس نے 'مریدوں کو اس شک میں قتل کیا ہے کہ وہ انھیں زہر دینے کی سازش میں ملوث تھے۔'

ملزم عبدالوحید ماضی میں پنجاب الیکشن کمیشن میں ملازم رہ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملزم عبدالوحید

اس واقعے میں چند افراد شدید زخمی بھی ہوئے جن کا علاج مقامی ہسپتال میں جاری ہے۔

زخمیوں میں شامل محمد توقیر نامی شخص نے بی بی سی اردو کے عمردراز کو بتایا کہ 'یہ دربار بنے ہوئے دو سال ہوئے ہیں اور اس میں کوئی گدی نشین نہیں تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کی جانب سے 'فون کر کے لوگوں کو بلایا گیا تھا اور سب باری باری گئے تھے۔ اکھٹے کوئی نہیں گیا تھا۔'

توقیر نے بتایا کہ جیسے ہی وہ دربار میں پہنچے تو ان پر ڈنڈوں سے حملہ کیا گیا۔

'مجھے نہ کچھ کھانے کو دیا گیا نہ پینے کو اور نہ ہی مجھ سے پوچھا کسی چیز کے لیے۔ بس میں گیا تھا اور ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔'

توقیر نے بتایا کہ ہلاک شدگان کا تعلق ایک ہی برادری سے ہے اور 'ان میں سے پانچ لوگ ایک ہی خاندان کے تھے جو چک 90 سے آئے تھے۔'

ہسپتال میں ہی موجود ایک اور زخمی محمد کاشف کا کہنا تھا کہ 'مجھے نہیں علم کہ انھوں نے لوگوں کو کیوں مارا۔ میں جب وہاں گیا تھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔وہاں مجھ سے پوچھا پانی پیو گے تو میں نے کہا ہاں۔ پانی پی کر مجھے چکر آنے لگے اور ان سب نے مل کر مجھے ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔ مار کھا کر میں تقریباً بےہوش تھا تو مجھے باہر پھینک دیا۔ میں نے کسی کی آواز سنی کہ یہ مر گیا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرگودھا کے دربار میں زخمیں ہونے والے محمد توقیر ہسپتال میں زیر علاج ہیں

ہلاک ہونے والوں میں درگاہ کے پیر کا بیٹا بھی شامل ہے اور پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبائی وزیر برائے اوقاف زعیم قادری نے کہا ہے کہ درگاہ میں 20 افراد کے قتل کا واقعہ خالصتاً ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا۔

انھوں نے کہا ہے کہ واقعے کی انکوائری رپورٹ وزیراعلیٰ شہباز شریف کو فراہم کر دی گئی ہے جس کے مطابق متولی نے نہ صرف گدّی کے جانشین بلکہ معاملے نمٹانے کے لیے آنے والے دیگر افراد کو بھی قتل کیا۔

اسی بارے میں