پاکستان سے واپس جانے والے افغان خاندانوں کی مالی امداد میں کمی

افغان مہاجرین تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے قانونی افغان پناہ گزین کی رضاکارانہ واپسی کا عمل موسم سرما میں تعطل کے بعد دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے تاہم واپس وطن لوٹنے والے افغان خاندانوں کی امداد میں پچاس فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے۔

’پاکستان پناہ گزینوں کو جگہ دینے والا تیسرا بڑا ملک‘

پاکستان میں پناہ گزین کےلیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی ترجمان دنیا اسلم خان نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ تقریباً پانچ ماہ کے وقفے کے بعد افغانستان جانے والے پناہ گزین کی رضاکارانہ واپسی کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے روز خیبر پختو نخوا سے تقریباً دو سو خاندان واپس افغانستان جارہے ہیں جبکہ بلوچستان سے بھی کچھ خاندانوں کی واپسی کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پناہ گزین کی سہولت کےلیے دو سنٹرز فعال ہیں جہاں سے بےگھر خاندانوں کی واپسی کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کو ملنے والی امداد میں پچاس فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے ان خاندانوں کو فی کس چار سو امریکی ڈالر بطور امداد ملتے تھے جو اب کم کرکے اس سال دو سو ڈالر کردی گئی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پہلے بھی پناہ گزین کو دو سو ڈالر امداد ملتی تھی لیکن گذشتہ سال افغان پناہ گزینوں کی طرف سے اس امداد میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا جس کے بعد یہ رقم دو گنا کردی گئی لیکن بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی واپسی کی وجہ سے وہ امداد چھ ماہ میں ہی ختم ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں تیرہ لاکھ رجسٹرڈ اور تقریباً چھ لاکھ غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین ملک کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔ ترجمان کے مطابق گذشتہ سال تین لاکھ ستر ہزار افغان باشندے واپس اپنے اپنے علاقوں کو لوٹے تھے۔

ایک سوال کے جواب میں یو این ایچ سی آر کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سے 2002 میں افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا عمل شروع کیا گیا تھا اور اب تک کوئی چار ملین افراد واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان حملے کے بعد سے ملک بھر میں غیر قانونی طورپر رہنے والے افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تھا۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں افغانیوں کو گرفتار یا ملک بدر کیا گیا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد حکومت کی طرف سے پاک افغان سرحد پر انتظام سخت سے سخت کیا جارہا ہے۔

اس سال فروری میں پاکستان نے پہلی مرتبہ سرحد پر آمد ورفت کے ضمن میں نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت افغانستان سے پاکستان آنے والے باشندوں کےلیے ویزے کی شرط لازم کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ افغان طبہ اور تاجروں کے لیے نئے ویزے سکیم کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ پاکستان میں قانونی طورپر مقیم افغان شہریوں کو اس سال کے آخر تک یہاں رہنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ اس سلسلے میں یو این ایچ سی آر، حکومت پاکستان اور افغانستان کے مابین ایک معاہدہ بھی موجود ہے۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران اس معاہدے میں ہر سال توسیع ہوتی رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں