’ایران کے لیے عالم، سعودی عرب کے لیے دہشت گرد‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رہنما شاہ محمود قریشی نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے 41 اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد کے بارے میں پاکستان کو محتاط فیصلے کرنا ہوں گے۔

قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کو سیکریٹری خارجہ کی طرف سے سعودی عرب کی قیادت میں بنننے والے عسکری اتحاد کے بارے میں بریفنگ کے موقع پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب اور ايران ميں سے کسی ایک کی جانب جھکاؤ منفی ثابت ہو سکتا ہے'۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کے سربراہ اویس لغاری کی قیادت میں ہوا۔ کمیٹی کے اس اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کوئی رکن سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کی وجہ سے موجود نہیں تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکیین بھی اس اجلاس کو بلائے جانے میں متحرک تھے اور وہ یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ مستقبل میں پاکستان کے ایران سے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی ایک اور رہنما شیریں مزاری نے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے اس استدلال کو رد کر دیا کہ یہ اتحاد کسی ایک ملک یا فرقے کے خلاف نہیں بنایا جا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کی فورسز یمن میں بھی کارروائیاں کر رہی ہیں

شیرین مزاری کے بقول 'سعودی اسلامی اتحاد کی بنیاد ہی فرقہ واریت پر ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اتحاد کسی ایک فرقے یا ملک کے خلاف نہیں؟'۔

قومی وطن پارٹی کے رہنما آفتاب شيرپاؤ نے اسلامی اتحاد کے 'اغراض ومقاصد اور خدوخال جانے بغير اس میں شموليت' پرسوال اٹھايا۔

نعیمہ کشور نے سوال کیا کہ دہشت گردی کی تعریف کیا ہوگی، ایران جسے 'عالم' کہتا ہے، سعودی عرب اسے 'دہشت گرد' قرار دیتا ہے۔

کمیٹی کے اجلاس کے دوران بعض ارکان کا کہنا تھا کہ سعودی اتحاد کی سربراہی پاکستان کو ملنے سے انڈیا کے مقابلے میں پاکستان مضبوط ہو گا جبکہ اویس لغاری کا کہنا تھا کہ 'غیر پاکستانی کی بجائے ایک پاکستانی کے ہاتھ اس اتحاد کی قیادت ملک کے لیے سودمند' رہے گی۔

رکن قومی اسمبلی محمد خان ڈاحا نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے ذمے اسلامی اتحاد کی قیادت کو سونپے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 'مسلم امہ مضبوط ہوگی، مسلمانوں کو ایسے ہی اتحاد کی ضرورت تھی'۔

اجلاس کے دوران کمیٹی ممبران نے ملک میں 'فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے ملنے والی سعودی اور ایرانی فنڈنگ' سے متعلق بھی سوالات کیے۔

جس کے جواب میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ 'حکومت پاکستان کسی بھی قسم کی فنڈنگ پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ شدت پسندوں کے مالی مدد روکنے کے حوالے سے قومی ایکشن پلان میں بھی نکات موجود ہیں'۔

واضح رہے کہ کمیٹی اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی اور شیریں مزاری کی جانب سے سعودی اتحاد سے متعلق سب سے زیادہ اعتراضات اور سوالات اٹھائے گئے۔ تاہم دونوں ہی رہنما سیکرٹری خارجہ کے جوابات سے پہلے ہی اجلاس سے چلے گئے۔ ان کے مطابق انہیں ایک اپنی جماعت کی اہم میٹنگ میں شرکت کرنا تھی۔

چیئرمین کمیٹی اویس لغاری نے کہا کہ علاقائی امن اور دو طرفہ تعلقات کی بہتری میں دونوں ممالک کی پارلیمانی کمیٹیاں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں، اسی لیے آئندہ ماہ خارجہ امور کمیٹی ایران کے دورے پر جائے گی۔

یاد رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں اتحاد کی عسکری کارروائی میں شمولیت کی سعودی عرب کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کی پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد میں کہا تھا کہ ملک کو اس تنازعے میں اپنی غیرجانبداری برقرار رکھنی چاہیے۔

دوہزار پندرہ میں متقفہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد میں کہاگیا تھا کہ پاکستان یمن کے بحران کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ اور او آئی سی میں سرگرم سفارتی کردار ادا کرے۔

قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ایوان سمجھتا ہے کہ یمن میں جاری جنگ کی نوعیت فرقہ وارانہ نہیں تاہم اس کے فرقہ وارانہ تنازعے میں تبدیل ہونے کے امکانات موجود ہیں جس کے پاکستان سمیت خطے میں سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

تاہم پاکستانی پارلیمان نے اس عزم کو بھی دہرایا تھا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت یا حرمین شریفین کو کسی قسم کے خطرے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔

اسی بارے میں