چار اپریل کا وہ دن

ذوالفقار علی بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مجھے وہ دن آج بھی یاد ہے۔ کراچی میں ٹیپو سلطان روڈ پر واقع گھر کےباہر کھڑا تھا جب گلی گلی بٹنے والے خصوصی ضمیمے کی ایک کاپی میرے بھی ہاتھ آ گئی۔ اُسے لیے بھاگا بھاگا اندر دوڑا اور لا کر والد صاحب کے سامنے پیش کیا۔

انھوں نے ضمیمہ ہاتھ میں لیا۔ سرخی پر نظر پڑتے ہی جیسے سکتے میں آ گئے۔ آنکھیں چھپکنا بند ہو گئیں اور وہ بس اخبار کو تکتے رہے۔ کئی لمحے ایسے ہی گزر گئے۔ میں نے انھیں ذرا ہلا کر پوچھا، 'آپ ٹھیک ہیں؟'

انھوں نے گھور کر میری طرف دیکھا۔ اس لمحے مجھے ان کی آنکھوں میں بہت غصہ نظر آیا، جو جلد ہی گہرےصدمے میں بدل گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی پر ہمارے گھر میں ماتم تھا اور ملک کے طول و عرض میں گہرے سوگ کا ماحول۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا جنرل ضیا اس حد تک جا سکتے ہیں۔ لیکن ضیا کو اپنی بقا رحم کی تمام اپیلیں مسترد کر کے بھٹو کو تختۂ دار پر لٹکانے میں ہی نظر آئی۔

ضیا کے مارشل لا کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف پہلے سے کریک ڈاؤن جاری تھا۔ ہر طرف ملٹری حکام کے ہاتھوں سیاسی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ جاری تھی۔ خیرپور میں ہمارے گھروں پر فوجیوں نے چادر و چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے چڑھائیاں کیں۔ خاندان کے کچھ مرد اِدھر اُدھر چھپ گئے لیکن دادا اور والد صاحب کو فوجیوں نے ہتھکڑیاں لگا کر پہلے تھانے اور پھر جیل میں ڈال دیا۔

ایسے میں جیے بھٹو کا نعرہ فوجی آمریت کی مزاحمت بن کر ابھرا۔ ضیا اور اس کے ساتھی جنرلوں کے لیے لوگوں میں پہلے جو نفرت تھی، بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کے بعد خوف میں بدل گئی۔

آہستہ آہستہ دوست احباب نے ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا کہ کہیں ایجنسیوں والے ان کے بھی پیچھے نہ پڑ جائیں۔ ایک بار جب والدہ کچھ پرانے جاننےوالوں سے ملنے گئیں تو انھوں نے یہ تک کہہ دیا کہ ’آپ ہمارے یہاں آنے کی زحمت نہ کیا کریں کیونکہ ہم سیاسی لوگوں سے کوئی سروکار نہیں چاہتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیا نے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کا جو مشن اپنایا اسے طالب علمی کے دنوں میں ہم نے بھی بھگتا۔ سکول میں اعلان ہوا کہ انگریزی، اردو اور سندھی کے ساتھ ساتھ اب عربی بھی لازمی ہو گی۔ ساتھ ہی ہمارا یونیفارم بھی پینٹ شرٹ سے بدل کی شلوار قمیض کر دیا گیا۔ لڑکپن کے ان دنوں میں یہ ریاستی زبردستی ایسی ہی تھی جیسے کوئی آپ کو کہے کہ آج سے آپ نائٹ سوٹ میں سکول جائیں گے۔

سکول میں جب بھی والدین کو بلایا جاتا تو والدہ ہی جاتیں۔ دوست پوچھتے، ’تمہارے والد کیوں نہیں آتے؟‘ کیا بتاتے کہ وہ جیل میں ہیں؟ ان دنوں ہر کوئی دبئی جانے کے چکروں میں نظر آتا تھا۔ سو ہم یہی بتاتے کہ وہ بھی دبئی میں کام کرتے ہیں اسی لیے نظر نہیں آتے۔

مارشل لا کے دوران ہفتے میں ایک بار والد صاحب سے ملاقات کے لیے کراچی سینٹرل جیل جاتا تھا ۔وہاں دیگر سیاسی اسیروں سے بھی ملاقاتیں ہوتیں، فتحیاب علی خان، معراج محمد خان، نفیس صدیقی، پروفیسر جمال نقوی، مسرور احسن، ناصر بلوچ، ایاز سموں۔ ایم آر ڈی کی تحریک کا زمانہ آیا۔ جنرل ضیا نے اسے بھرپور طریقے سے کچلنے کی کوشش کی۔ کئی کو پھانسی پر چڑھا دیا۔ باقیوں کو آخر کار رہا کر دیا گیا۔

فوجی سینسر شپ کا وہ زمانہ آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ صبح گھر پر امن اخبار یا پھرمساوات پڑھتے، رات کو آٹھ بجے بی بی سی کا پروگرام سیربین سنتے۔ گھر پر فون نہیں تھا تو کبھی کبھار ایمرجنسی میں پڑوسیوں جا کر کا فون استعمال کرتے۔ آج کل کی ڈیجیٹل نسل کوشاید یہ کسی قدیم زمانے کی بات لگے، لیکن یہ اتنی بھی پرانی باتیں نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ملک بھر میں مظاہروں کا سلسہ پھوٹ پڑا

آئیڈیلزم کا یہ دور 90 کی دہائی میں اختتام پذیر ہوا۔ جب جمہوریت کے لیے لڑنے والوں نے جمہوریت کو ایک لطیفہ بنا کر رکھ دیا۔ جب جب اقتدار ملا، بدعنوانی اور خراب طرز حکمرانی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ فوجی آمریت کی باقیات اور جمہوریت کے پیروکاروں میں فرق مٹتا چلا گیا۔ عوامی سیاسی پروگرام کی بجائے پیسہ اور ہتھیار ووٹ لینے کا ذریعہ بن گئے۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کو چیلنج کرنے والے خود ہی رئیس اور نواب بن بیٹھے۔

یوں ذوالفقار علی بھٹو کی پی پی پی نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ بڑی بڑی غلطیاں کیں لیکن بڑی بڑی قربانیاں بھی دیں۔ قربانیوں نے بار بار قیادت کی غلطیوں کو دھویا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے کتنا بھی اختلاف کر لیں ایک بات طے ہے کہ وہ ملک کو ایک متفقہ آئین دے گئے۔ گویا قوم کو ہر مسئلہ کے حل کے لئے سیاسی عمل سکھا گئے۔

یہ سیاسی عمل چلتا رہے، آئینی ادارے ترقی پاتے رہیں اور مضبوط ہوتے رہیں، اسی میں اس ملک کی بقا ہے مگر راستہ کٹھن ہے اور مایوس کن بھی۔

اسی بارے میں