امریکی مصالحتی پیشکش، پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ؟

پاکستان انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تفصیہ طلب مسائل کےحل کے لیے مصالحت کی امریکی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ انڈیا نے ایک بار پھر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ دوطرفہ مذاکرات کےلیے دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول ضروری ہے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک پاکستانی صحافی کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر پوچھے گئے سوال کےجواب میں کہا تھا کہ 'امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان بگڑتے تعلقات پر تشویش ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو تصادم میں تبدیل ہونے سے پہلے سنبھال لیا جائے۔‘

نکی ہیلی کایہ بھی کہنا تھا کہ اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قومی سلامتی کونسل کے اراکین انڈیا اور پاکستان کے درمیان امن بحال کرنے کی کوششیں کر سکتے ہیں۔

امریکی سفیر کے اس بیان میں کے جواب میں انڈیا کی حکومت کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات میں دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول کےحکومتی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بلاشبہ ہم بین الاقوامی برادری اور تنظیموں سے توقع رکھتےہیں کہ وہ پاکستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کے تناظر میں بین الاقوامی میکینزم اور طریقہ کار کو یقینی بنائیں گی، جو خطے اور اس سے باہر امن اور استحکام کے لیے واحد اور سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔‘

اِدھر پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسائل کے حل کے لیے ثالثی کے کردار ادا کرنے کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نفیس زکریا نے بی بی سی اردو کی شمائلہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم اس طرح کی کسی بھی پیش کش کا ہمیشہ خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ ہم انڈیا کے ساتھ مسائل کو دوستانہ انداز میں حل کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے بھی ایک بار پھر انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری شورش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 'مذاکرات کے لیے ہم کوئی شرائط نہیں رکھیں گے لیکن اس وقت ہمارا تقاضا ہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جو خونریزی جاری ہے اسے بند کیا جائِے اور انڈیا کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائِے۔'

نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ 'ہمارا موقف ہے کہ کشمیر کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، جس میں ان سے وعدہ کیا گیا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حقِ خود ارادیت دیا جائے گا اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائِے شماری کرائی جائِے گی۔'

تجزیہ کاروں کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان مصالحتی کردار ادا کرنے کےبیانات خطے کی جانب امریکی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے، لیکن امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر شمشاد احمد سمجھتے ہیں کہ امریکہ ماضی کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں کشیدگی بڑھی ہے

’امریکہ کی مرضی تو ہے۔ نہ صرف امریکہ کی طرف سے بلکہ اقوامِ متحدہ کے موجودہ سیکریٹری جنرل کی طرف سے، اُس سے پہلے بان کی مون کی طرف سے اور اُس سے پہلے کوفی عنان کی طرف سے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ فی الوقت انڈیا اپنے منفی انداز سے باہر نکلنے کے موڈ میں ہے۔'

سابق سفیر نجم الدین شیخ کہتے ہیں کہ 'سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیان کے خر میں ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں امریکہ اپنا کردار مشورے تک محدود رکھنا چاہتا ہے لیکن اگر ڈونلڈ ٹرمپ ان مذاکرات میں کوئی ٹھوس کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر انڈیا کے تحفظات اور دوطرفہ مذاکرات کے مؤقف کو ایک طرف رکھتے ہوئے ثالثی کا کردار ادا کرے۔‘

شمشاد احمد نےکہا کہ 'پاکستان نے تو کہا ہے کہ اُس کے دروازے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں اور ایک طرح سے پاکستان تو مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے لیکن نائن الیون کے بعد انڈیا نے ایک بڑا سوچا سمجھا فیصلہ کر رکھا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشمیر پہ کوئی بات نہیں کرنی، عالمی دہشت گرد جذبات استعمال کرنا ہے اور کشمیر کے مسئلے کو دہشت گردی کے مسئلے میں تبدیل کرنا ہے۔‘

مبصرین سمجھتے ہیں کہ کشمیر کےمسئلے کی طرف صدر ٹرمپ کی توجہ نکی ہیلی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔

شمشاد احمد نےکہا کہ 'وہاں تو ٹرمپ کے آنے کے بعد ’امریکہ فرسٹ‘ کا نعرہ لگا ہوا تھا۔ تو یہ نکی ہیلی کی سوچ لگتی ہے جنھوں نے اپنےصدر کو قائل کر لیا ہے کہ کچھ کرنا ہو گا، کیونکہ یہ صرف دو ملکوں نہیں بلکہ دنیا کے فائدے میں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'کشمیر کا معاملہ کوئی ریئل اسٹیٹ کا معاملہ یا جائیداد کی ملکیت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ حقِ خود ارادیت کا مسئلہ ہے، جس کے لیے پاکستان اور انڈیا سمیت اقوامِ متحدہ، امریکہ اور دنیا کی بڑی طاقتوں کو ملک کر بیٹھنا ہو گا۔‘

امریکہ نے حال ہی میں مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کے حصے کے طور پر فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے دو ریاستی پر دو دہائیوں سے قائم اپنے موقف کو تبدیل کر کے ایک ریاستی حل پر زور دیا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اسی سوچ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سابق سفیرنجم الدین شیخ نے کہا کہ 'صدر ٹرمپ جو ایک ڈیل کروانا چاہتے ہیں اور یہ اُسی اہمیت کا موقع ہے جیسا کہ فلسطین میں ہے۔'

مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی آرہی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی کوئی معاہدہ کرنے پر زور دیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں