ریاستی اداروں کے منہ کو خون لگ گیا ہے: محمد حنیف

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
محمد حنیف کے مطابق ڈاکٹر ریاض کی زندگی کا مقصد آواز بلند کرنا ہے

کراچی کی ایک عدالت نے بلالائسنس اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں حراست میں لیے گئے کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے استاد ڈاکٹر ریاض احمد کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

سنیچر کو رینجرز کی جانب سے ڈاکٹر ریاض کی گرفتاری کے بعد جہاں سول سوسائٹی کی جانب سے ان کی رہائی کے لیے مظاہرے کیے گئے وہیں سوشل میڈیا پر اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

’آواز دبانے کے لیے بدترین تشدد کا استعمال‘

’پروفیسر ریاض نے ہمیشہ محروموں کے لیے آواز اٹھائی‘

ضمانت پر رہائی کے بعد ڈاکٹر ریاض کے ساتھ بی بی سی اردو کا فیس بک لائیو

بی بی سی اردو کی ارم عباسی نے اس معاملے پر معروف تجزیہ کار محمد حنیف سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ ’کراچی یونیورسٹی میں، جہاں ڈاکٹر ریاض پڑھاتے ہیں، وہاں رینجرز کو کوئی 30 سال ہو گئے۔ تو امید یہ کی جانی چاہیے تھی کہ ان کی کچھ تعلیم ہو جاتی، وہ کچھ سیکھ لیتے کہ یہ دنیا کیسے چلتی ہے۔

'جو انھوں نے توہینِ مذہب والے مواد کی بات کی ہے تو وہ کہانی پہلے بھی چل چکی ہے، خود ملک کے وزیرِ داخلہ کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر ریاض نے کوئی گستاخانہ کام نہیں کیا۔

'ڈاکٹر ریاض کراچی یونیورسٹی کے پرانے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے فوج کے خلاف، الطاف حسین کے خلاف، اپنی یونیورسٹی کے معاملات کے خلاف (احتجاج کیا ہے)، کراچی میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہوا جس کے خلاف احتجاج کرنے میں ڈاکٹر ریاض سب سے آگے نہ ہوں۔ کراچی میں ان کے دوست انھیں ’ایجیٹیٹر ان چیف‘ کہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد آواز بلند کرنا ہے۔ اور وہ 20، 25 سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔

'اب وہ تنگ آ کر ان پر اس طرح کے مضحکہ خیز الزامات لگا رہے ہیں کہ صرف افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے اپنے ادارے اپنے ہی شہروں کو (پکڑ رہے ہیں)، اور ان پر کیس بھی ڈالا ہے تو پستول کا۔

'جس نے بھی ان سے پڑھا ہے یا ان سے ملاقات کی ہے وہ جانتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ساری زندگی پستولوں کے خلاف بات کرتے رہے ہیں۔'

ریاست کو ڈاکٹر ریاض سے کیا خطرہ ہے؟

'ان کے دوستوں سے میں بات کر رہا تھا تو ایک یہ کہہ رہے تھے کہ صورتِ حال کچھ بہتر ہوئی ہے، کم از کم ڈاکٹر ریاض کو گرفتار کیا ہے، وہ عدالت میں آئیں گے، کیس چلے گا، وہ اپنا کیس ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ جن لوگوں کے حق میں وہ آواز اٹھاتے ہیں جب وہ اٹھائے جاتے ہیں تو چار چار مہینے ان کے گھر والوں کو پتہ بھی نہیں چلتا، نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ کہاں ہیں نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ الزام کیا ہے۔ نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیا نہ کریں تو ریاست آپ کو تنگ نہیں کرے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Riaz Ahmed
Image caption ڈاکٹر ریاض کے دوست انھیں 'ایجی ٹیٹر ان چیف' کہتے ہیں، ان کی زندگی کا مقصد آواز بلند کرنا ہے، اور وہ 20، 25 سال سے یہ کام کر رہے ہیں: محمد حنیف

'ریاستی اداروں کے منہ کو خون لگ چکا ہے، عدالت کوشش کر کے دیکھ چکی ہیں لیکن ان کو کوئی نہیں پوچھ سکتا، کہ وہ جس کو اٹھا لیں، جتنے دن رکھیں، جب مرضی چھوڑ دیں۔ اس پر کوئی سیاست دان بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

'تو آہستہ آہستہ ان کو لگتا ہے کہ ان کے خلاف آوازیں، چاہے وہ کراچی میں پریس کلب کے باہر دس لوگ ہی کھڑے احتجاج نہ کر رہے ہوں، یا 20 طلبہ کراچی یونیورسٹی میں مظاہرہ کر رہے ہوں، تو ان کا خیال ہے کہ جب تک چھوٹی سے چھوٹی آواز کو بھی خاموش نہیں کر دیا جائے گا، اس وقت تک تسلط (قائم نہیں رہے گا)۔۔۔ ان کا خیال ہے کہ طلبہ، یا اساتذہ کے ذہنوں میں گھس کر اس طرح کا خوف پھیلایا جائے کہ اور کوئی اس طرح کی حرکت کرنے کا سوچ بھی رہا ہے تو گھر پر بیٹھا رہے۔'

ایک تاثر یہ بھی ہے کہ سیاست دانوں کو جتنی گالیاں دے دیں لیکن جو بھی خفیہ اداروں یا فوج پر تنقید کرتا ہے، تو انھیں ایک منظم طریقے سے دبایا جا رہا ہے؟

'افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ حقیقت ہے، ہم اس کے ساتھ بہت عرصے سے زندہ رہ رہے ہیں، پہلے ہم بلوچستان کے بارے میں سنتے تھے، پھر یہ رجحان اندرونِ سندھ میں شروع ہوا، اب آپ نے دیکھا کہ کراچی میں بھی ایسا ہو رہا ہے، آپ نے دیکھا کہ پچھلے دنوں پنجاب میں کارکنوں اور بلاگروں کے خلاف جو ہوا۔ نہ صرف انھیں غائب کیا جاتا ہے بلکہ ان کے خلاف ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں، کہ اگر وہ آزاد بھی ہو جائیں تو وہ معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل نہ رہیں۔'

پاکستان میں جمہوری نظام نیا ہے لیکن اگر وقت کے ساتھ ساتھ جمہوری نظام پر قدغن لگتی رہے گی تو اس سے شہریوں کے حقوق یا جمہوری نظام پر کیا اثر پڑے گا؟

'جتنے لوگوں کو اٹھایا جاتا ہے، اتنے ہی زیادہ لوگ اس کی جگہ پر بولنے کے لیے آ جاتے ہیں، تو جمہوریت کا کم از کم یہ فائدہ ہے کہ اگر ہمارے رہنما اور سیاست دان اس پر بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں تو عام لوگ، طلبہ، اساتذہ، یا کچھ لوگ جنھیں آپ سول سوسائٹی کہتے ہیں، وہ اس پر خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں۔'

اسی بارے میں