ڈاکٹر ریاض کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ

کراچی تصویر کے کاپی رائٹ Facebook/Riaz Ahmed
Image caption ڈاکٹر ریاض جامعہ کراچی میں شعبہ عملی کیمیا کے پروفیسر ہیں۔

کراچی میں مقامی عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے استاد اور حقوقِ انسانی کے کارکن پروفیسر ریاض احمد کی درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

بدھ کو درخواستِ ضمانت کی سماعت کے موقع پر سماجی کارکنوں اور اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد موجود تھی۔

عدالت کے مطابق یہ فیصلہ اب جمعرات کو سنایا جائے گا۔

ڈاکٹر ریاض سنیچر کو متحدہ قومی موومنٹ (لندن) کے زیرِ حراست رکن ڈاکٹر ظفرعارف کی رہائی کے سلسلے میں پریس کانفرنس کرنے پریس کلب جا رہے تھے کہ راستے میں رینجرز نے انھیں گرفتار کر لیا تھا۔

ڈاکٹر ریاض جامعہ کراچی میں شعبہ عملی کیمیا کے پروفیسر ہیں۔ وہ اساتذہ کی تنظیم کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی سمیت طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں۔

ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں ان کے قبضے سے ایک بلالائسنس پستول کی برآمدگی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ادھر انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے کراچی میں پروفیسر ریاض احمد کےخلاف اسلحہ کیس کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

کراچی میں ادارے کے چیئرمین اسد بٹ نے بی بی سی اردو کی شمائلہ خان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ'یہ ہمارے اظہارِ رائے کی آزادی پرایک قدغن اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔‘

ڈاکٹر ریاض کی اہلیہ صوفیہ حسنین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے شوہر پراسلحہ رکھنے جیسے الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ بدھ کو عدالت سے انھیں ضمانت مل جائے گی۔

صوفیہ حسنین کے مطابق ڈاکٹر ریاض کو اتوار کے روز ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور وہاں سے انھیں 15 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر سنٹرل جیل بھیج دیا گیا۔

ایم کیو ایم کے ڈاکٹر ظفر عارف سے ان کےتعلق کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ’ڈاکٹر ریاض کا ایم کیو ایم لندن سے کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے البتہ ڈاکٹر ظفر عارف سے علمی اور ادبی سطح پہ ان کا کافی پرانا تعلق ہے اور اسی بنیاد پر ڈاکٹر ریاض کا خیال تھا کہ ڈاکٹر ظفر عارف کی گرفتاری اور جیل کے اندر ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی نشاندہی کرنی چاہیے۔‘

کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی (کُٹس) کے صدر شکیل فاروقی کے مطابق تعلیمی اداروں کے اساتذہ پر ناقص الزامات کے بعد ان کی گرفتاری پر تشویش پائی جاتی ہے۔

’کٹس ڈاکٹر ریاض کی گرفتاری پرسراپا احتجاج ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر ریاض احمد صاحب کو فوری طور پر رہا کیا جائِے اور ان پر قائم جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں۔‘

ڈاکٹر ریاض کی اہلیہ صوفیہ حسنین نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد سےان کی نجی زندگی کافی متاثر ہوئی ہے۔ وہ اپنے دفتر سے رخصت پر ہیں اور ڈاکٹر ریاض کی رہائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔البتہ ان کی اکلوتی بیٹی کی زندگی متاثر نہ ہو، اس لیے اسے باقاعدگی سے سکول بھیجتی ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کو ڈاکٹر ریاض احمد کی گرفتاری کے فوراً بعد کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے اراکین نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کو اس بارے میں اطلاع دی تھی۔

اس کے بعد اتوار کے روز کراچی سمیت لاہور اور فیصل آباد میں سول سوسائٹی ممبران نے ڈاکٹر ریاض کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ فری ڈاکٹر ریاض یا ڈاکٹر ریاض کو رہا کرو بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔

سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کے باوجود اس بارے میں اب تک اعلیٰ حکام میں سے کسی کا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں