مردم شماری کی ٹیم پر خودکش حملہ، ’پانچ فوجی اہلکاروں سمیت سات ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
لاہور میں مردم شماری کی ٹیم پر خودکش حملہ

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مردم شماری کے عملے کی سکیورٹی ٹیم پر ایک خودکش حملے میں پانچ فوجی اہلکاروں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک اور 19 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے ترجمان ملک احمد خان نے بتایا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور فوجی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ہے۔

لاہور ایک بار پھر نشانہ

مردم شماری کے عملے کی ٹیم پر حملہ

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق تین رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی سربراہی آئی جی پنجاب کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران حملے کا نشانہ بننے والی وین کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس سے قبل ملک احمد خان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ حملہ ایک خودکش حملہ آور نے کیا۔

یہ دھماکہ لاہور کینٹ کے علاقے بیدیاں روڈ پر بدھ کی صبح ہوا ہے۔ دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مقامی دکانیں بند کروا دی گئی۔

حکومتِ پنجاب کے ٹوئٹر ہینڈل کے مطابق اس واقعے میں 19 افراد زخمی بھی ہوئے اور شدید زخمیوں کو جنرل ہسپتال اور سی ایم ایچ ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ہلاک ہونے والے فوجیوں کی نمازجنازہ میں لاہور میں ادا کی گئی ہے جس میں کور کمانڈر اور وزیراعلیٰ و گورنر پنجاب سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کا نشانہ مردم شماری کے عملے کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکار کی گاڑی بنی۔

پاکستان کے شعبہِ شماریات کی جانب سے اس واقعے کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ صبح 8 بج کر 20 منٹ پر ہوا۔ بیان کے مطابق حملے کے وقت گاڑی میں 17 فوجی اہلکار سوار تھے اور ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں اس نجی گاڑی کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔

پاکستان میں 19 سال کے بعد مردم شماری کروائی جا رہی ہے جس کا عمل پندرہ مارچ سے شروع ہوا تھا۔

یاد رہے کہ لاہور میں رواں برس دو بڑے دھماکے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یاد رہے کہ لاہور میں رواں برس دو بڑے دھماکے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس سال کے آغاز میں لاہور کے مرکزی علاقے میں مال روڈ پر ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے۔ دھماکہ پنجاب اسمبلی کے قریب چیئرنگ کراس کے مقام پر جاری احتجاجی مظاہرے میں ہوا۔

اس کے علاوہ لاہور شہر کے متمول علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی کمرشل مارکیٹ میں واقع ایک ریستوران کی عمارت میں ہونے والے ایک دھماکے میں نو افراد ہلاک جبکہ 32 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں