پاکستان کی نوجوان نسل اور مردم شماری

قوموں کی ترقی کا انحصار اس کی نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں نوجوان نسل کے مسائل یا ان کے مستقبل کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے کی بحث حکومتی ترجیحات میں کہیں بہت نیچے معلوم ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ پاکستان کی سیاست میں نوجوان نسل کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر بھی ہے۔

اندازے کے مطابق پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر ہے لیکن پاکستان میں 1998 کے بعد مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے حکومت کو ابھی تک معلوم ہی نہیں کہ نوجوانوں کی اصل تعداد ہے کیا؟ ہماری ساتھی ارم عباسی نے ایسے ہی تین نوجوانوں سے بات کی جو اٹھارہ سے انیس برس کے ہیں اور ان کی زندگی میں پہلی مرتبہ مردم شماری ہو رہی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مریم کے خیال میں کشمیر کے لوگوں کی آواز طاقت وار سیاستدانوں تک پہنچنے سے قاصر ہے

انیس سالہ مریم سے ملیے۔ یہ سکول آف پولیٹکس اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں پڑھتی ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے۔ یہ بڑی ہو کر وہاں کی وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کشمیر کے لوگوں کی آواز طاقت وار سیاستدانوں تک پہنچنے سے قاصر ہے۔ وہ اسی فاصلے کو ختم کرنے کے وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں تاکہ لوگوں کی رسائی سیاستدانوں تک ممکن بنائی جا سکے۔ وہ مردم شماری کو ایک خوش آئند پیش رفت کے طور پر دیکھتی ہیں۔ انھیں یقین ہے کہ اگر وہ محنت کرتی رہیں تو اپنی منزل ضرور پا لیں گی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
محمد اظہر خان کہتے ہیں کہ ملک کا مستقبل سنوارنا ہماری ذمہ داری ہے

محمد اظہر خان نمل سے سوفٹ ویئر انجینیئرنگ کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے حامی ہیں ۔پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے۔ وہ اپنی طاقت یعنی ووٹ کی طاقت سے بخوبی واقف ہیں۔ انھوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک گروپ بنا رکھا ہے جو نوجوانوں کے مسائل پر بات کرتا ہے۔ وہ نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اپنے ملک جیسا کوئی ملک نہیں اور اس کا مستقبل سنوارنا انھی کی ذمہ داری ہے۔ ان میں یہ شعور پیدا کرنے میں ان کی دادی کا بہت ہاتھ ہے۔ اس سلسلے میں ان کی دادی ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
اریج شیخ کے خیال میں پاکستان کے تمام مسائل کا حل تعلیم میں ہے

پی ٹی آئی کی دیوانی اریج شیخ ہنر کدہ میں پڑھتی ہیں۔ وہ پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں تو پچپن سے ہی حصہ لے رہی ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے کہ وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کر پائیں گی۔ وہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل تعلیم کو کہتی ہیں۔ ان کے خیال میں معاشرے میں تبدیلی تب ہی ممکن ہوگی جب تمام لڑکیاں سکول جائیں گی۔ انہیں پورا احساس ہے کہ اس قدامت پسند معاشرے میں بہت سی لڑکیاں مردوں کی جہالت کی نظر ہو جاتی ہیں۔ وہ اور ان کے دوست شدت سے عام انتخابات کا انتظار کر رہے ہیں۔ اپنے انگوٹھا پر ووٹ ڈالنے کے بعد کا نشان ابھی سے ہی ان کے ذہن میں گھوم رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں