خواجہ کا مسئلہ کیا ہے؟

اے ڈی خواجہ

سندھ پولیس کے انسپیکٹر جنرل اے ڈی خواجہ سے سندھ حکومت کی ناراضی کی وجوہات تو بظاہر کوئی نہیں جانتا۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنے ہی آئی جی کے خلاف ہو گئی۔ اے ڈی خواجہ کو دو مرتبہ ہٹانے کی کوشش کی جا چکی ہے لیکن عدالت اُن کے حق میں فیصلہ کر دیتی ہے۔

لیکن اے ڈی خواجہ نے تو کئی قابلِ ذکر کام کیے ہیں۔ مثلاً انھوں نے پولیس میں 18 ہزار بھرتیاں کیں لیکن میرٹ پر، ایک غیر جانبدار اور آزاد سلیکشن بورڈ بنایا، سندھ پولیس کے پروکیورمنٹ ڈپارٹمنٹ میں بدعنوانی سے بچنے کے لیے کھلی نیلامی کے ذریعے خریداری کی، گنے کے کاشتکاروں نے جب زیادتیوں کی شکایت کی تو کچھ سیاسی شخصیات اور اُن کے دوستوں پر ہاتھ ڈالا۔

اب ایک ایسے پولیس آفیسر کو برداشت کرنا تو واقعی مشکل کام ہے وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب اگلے عام انتخابات قریب آ رہے ہوں۔

ایسے میں عموماً صوبائی حکومتیں اپنی مرضی کے پولیس آفیسر چاہتی ہیں اے ڈی خواجہ شاید جیسے آفیسر نہیں۔

اے ڈی خواجہ کے حق میں سب سے بڑی دلیل تو انیتا تراب کیس کا فیصلہ ہے جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کسی سرکاری ملازم کو بغیر کسی معقول وجہ کے اُس کے عہدے سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔

اِس فیصلے میں سول سروس میں سیاسی مداخلت کے بارے میں بھی قوائد و ضوابط کی واضح طور پر نشاندھی کی گئی اور بتایا گیا کہ اچھی حکمرانی بڑی حد تک ایماندار اور مضبوط بیوروکریسی پر منحصر ہوتی ہے۔

فیصلے میں اِس بات کا بھی ذکر ہے کہ سول سرونٹ اصل میں پبلک سرونٹ ہوتے ہیں اور اِنھیں اپنے تمام فیصلے قانون کے مطابق اور عوامی مفاد کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرنے چاہییں۔

ایسا لگتا ہے کہ اے ڈی خواجہ نے انیتا تراب کیس کے فیصلے کو کافی غور سے پڑھا ہے۔ چلو پڑھنے کی حد تک تو صحیح ہے لیکن وہ تو اِس کی روشنی میں کام بھی کرنے لگیں ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی کہتے ہیں کہ اے ڈی خواجہ کے ٹرانسفر کے نوٹیفیکیشن میں کسی وجہ کا ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ قوائد کے مطابق اور انیتا تراب کیس کی روشنی میں ایسا کیا جانا ضروری تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

رشید اے رضوی کے مطابق یہ تو فوجی حکومتوں کی ضرورت سمجھی جاتی تھی جنھیں اپنی مرضی کے اہلکار رکھنے ہوتے تھے تاکہ معاملات پر مکمل کنٹرول ہو، لیکن سیاسی حکومتیں بھی اُسی ڈگر پر چل رہی ہیں۔ وہ کسی غیر جانبدار اور آزاد آفیسر کو کسی رینک اینڈ فائل میں پسند نہیں کرتیں۔

رشید اے رضوی نے بتایا کہ قوائد و ضوابط کے مطابق الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے بعد بیوروکریسی میں ٹرانسفر اور پوسٹنگ نہیں کی جا سکتیں۔ ’لہذا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الیکشن سے پہلے بیوروکریسی میں اپنے مطلب کی تبدیلیاں کر لی جائیں۔‘

صوبۂ سندھ کے سابق آئی جی کمال شاہ کا کہنا ہے کہ اگر عدالتیں، سندھ پولیس اور سول سوسائٹی اے ڈی خواجہ جیسے آفیسرز کے ساتھ ہوں تو یہ لوگ آزادانہ طریقے سے کام کر سکتے ہیں۔ ’لیکن بہتر یہی ہے کہ بیوروکریسی اور سیاسی حکومتیں مل جل کر اچھی حکمرانی کی مثال قائم کریں۔ دونوں کے کام میں ربط ہونا بہت ضروری ہے۔‘

کمال شاہ کہتے ہیں کہ اِس وقت جو صورتحال ہے اُس سے پولیس فورس میں لیڈرشپ کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

‘پولیس میں اصلاحات کا ایک پرانا منصوبہ موجود ہے لیکن اِس پر عمل کرنے کے بجائے اِس محکمے کو فرسودہ طریقوں سے ہی چلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اگر کوئی کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرے تو اُس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

کمال شاہ کے مطابق اُنھیں بھی کم از کم دو وزرا اعلیٰ کی جانب سے دباؤ کا سامنا رہا۔

انھوں نے بتایا کہ اگر پولیس کو مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں تو شہروں میں رینجرز کو بلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

’2004 میں جب اُس وقت کے کور کمانڈر کراچی پر حملہ ہوا تو وہ کیس پولیس نے حل کیا تھا۔ اِس کے علاوہ بے شمار کیسز پولیس نے حل کیے اور مجرموں کو پکڑا۔‘

موجودہ آئی جی اے ڈی خواجہ کے معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ یہ صوبائی حکومت کا اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی کے آئی جی کو تعینات کرے۔

کراچی سے پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی کہتے ہیں کہ اے ڈی خواجہ ایک اچھے آفیسر ہیں جن کی تعیناتی صوبائی حکومت کی سفارش پر ہی ہوئی تھی۔

’اے ڈی خواجہ کی جگہ عبدالمجید دستی کو لایا جا رہا ہے جن کی ساکھ بھی بہت اچھی ہے۔ اگر ایک آئی جی کے ساتھ صوبائی حکومت کی انڈرسٹینڈنگ اچھی نہیں تو کیا یہ لازمی ہے کہ وہی اِس عہدے پر کام کرتا رہے۔ اِس سے صوبے اور پولیس ڈپارٹمنٹ دونوں ہی کا نقصان ہے۔ اِس لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ نئے آئی جی کو لایا جائے۔‘

سعید غنی کا کہنا تھا کہ انیتا تراب کیس کے فیصلے کے بعد بھی دوسرے صوبوں میں کئی پولیس آفیسرز اور بیوروکریٹس کے تبادلے کیے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق: ’اُس پر تو کوئی بات نہیں کرتا۔ اِس طرح کے سارے سوالات صرف صوبۂ سندھ ہی کے بارے میں کیوں کیے جاتے ہیں۔‘

سعید غنی نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے نئے آئی جی عبدالمجید دستی کی منظوری دے دی ہے اور ضرورت پڑی تو صوبائی حکومت عدالت میں جا کر اپنا موقف پیش کرے گی۔

پولیس میں اٹھارہ ہزار بھرتیوں کے بارے میں سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ اِن بھرتیوں کا اختیار تو صوبائی حکومت نے ہی اے ڈی خواجہ کو دیا تھا۔

’اِس کے علاوہ جب انھیں تعینات کیا گیا تھا تو صوبائی حکومت نے صرف اُن ہی کا نام وفاقی حکومت کو بھیجا تھا۔ اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو آئی جی کے عہدے پر فائز کرنا چاہتی تھی۔‘

تو پھر ایسا کیا ہوا کہ جس اے ڈی خواجہ کو سندھ حکومت خود ہی لے کر آئی تھی انھیں بغیر کسی وجہ کے ہٹانا چاہتی ہے۔ کم از کم اے ڈی خواجہ کے تبادلے کے نوٹیفیکیشن میں تو کوئی وجہ نہیں لکھی گئی۔ انڈرسٹینڈنگ کی کمی کیا اتنی بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ یا تو سندھ کی حکومت انڈرسٹینڈنگ کی کمی کی تفصیلی وضاحت کرے یا پھر یہ بتائے کہ اے ڈی خواجہ کا مسئلہ کیا ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں