’انشورنس کیمرے کی ہے کیمرہ مین کی نہیں‘

میڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’انشورنس کیمرے کی ہے کیمرہ مین کی نہیں۔ ایک کیمرہ مین مر گیا تو 15000 میں دوسرا رکھ لیا جائے گا‘ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کی صورتحال پر یہ تبصرہ پاکستان میں صحافتی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے یوم شہدائے صحافت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں کیا گیا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کا مقصد مارے جانے والے صحافیوں کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی تھا۔

نامہ نگار نازش ظفر کے مطابق تقریب میں صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور مارے جانے والے صحافیوں کے اہل خانہ نے شرکت کی ۔تقریب میں صحافی حامد میر نے بین الاقوامی ایوارڈ میں ملنے والی پندرہ ہزار یورو کی رقم مارے جانے والے صحافیوں کے اہل خانہ کو عطیہ کی۔

بین الاقوامی صحافتی تنظیم جرنلسٹس ود آؤٹ بارڈرز کے اقبال خٹک نے پاکستان میں صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے اعداد شمار بتاتے ہوئے کہا کہ صرف دسمبر 2016 سے فروری 2017 کے درمیان تین ماہ میں تین صحافی مارے گئے، سات کو گرفتار کیا گیا، 17 پر حملے کر کے زخمی کیا گیا جبکہ چار پر قانونی مقدمے بنائے گئے۔ جبکہ گذشتہ 15 سال میں 110 سے زیادہ صحافی قتل کیے گئے جن میں بڑی تعداد کی ہلاکت بم دھماکوں میں نہیں ہوئی بلکہ ان کو چن کر مارا گیا۔

تقریب میں لاڑکانہ میں مارے گئے صحافی شان ڈار کی بہن شریک تھیں جن کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کی ہلاکت پر کیس میں اسے اتفاقی گولی لگنے کا واقعے قرار دیا گیا۔ کہا گیا کہ نیو ائر نائٹ کے سلسلے میں کی جانے والی فائرنگ سے موت واقع ہوئی۔ جبکہ مقدمے میں وہ اب تک انصاف ملنے کے انتظار میں ہیں۔

تقریب میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے مقتول صحافی حیات اللہ خان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ حیات اللہ کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جبکہ ان کے مقدمے کی پیروی کرنے والی ان کی بیوہ بھی ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئیں۔

Image caption تقریب کا مقصد مارے جانے والے صحافیوں کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی تھا

صحافی حامد میر خود بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملے کا شکار ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں خود اپنے کیس میں انصاف میں نہیں ملا کیونکہ ملک میں مختلف طبقوں میں انصاف دینے کا معیار مختلف ہے۔

تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب آزادی صحافت اور آزادئ اظہار کے خلاف جبر میں کوڑوں اور گولیوں کی جگہ نئے طریقوں نے بھی لے لی ہے۔

صحافی ناصر زیدی نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کے سلسلے میں پراسیکیوشن سے متعلق مسائل کا حل فوجی عدالتوں میں نہیں سویلین بالا دستی کو تسلیم کرنے میں ہے۔ صحافی ناصر ملک نے کہا صحافیوں کے خلاف جبری سلوک میں دہشت گرداور مفاد پرست ہی نہیں بلکہ کچھ سرکاری ادارے بھی شامل ہیں۔ جبکہ کچھ صحافیوں نے میڈیا کے اداروں کی جانب سے ورکرز کو تحفظ نہ دینے اور تنخواہوں میں تاخیر جیسے معاملات پر تنقید کی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں