’کون سی سیاسی جماعت ہے جس میں آمریت نہیں‘

ریحام خان تصویر کے کاپی رائٹ @RehamKhan1
Image caption ریحام خان نے سیاسی جماعتوں میں عدم جمہوریت پر تنقید کی

سوشلستان میں آج تو شام صفِ اول کا ٹرینڈ ہے جس کا موضوع شام میں ہونے والا کیمیائی حملہ اور اس کے ردِ عمل میں امریکہ کی جانب سے شام پر داغے گئے کروز میزائل ہیں۔ فیس بُک اور ٹوئٹر پر شامی بچوں کی ہولناک تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن کا منظر دل دہلانے کو کافی ہے۔ اس کے علاوہ مصباح الحق اور گورنر سندھ کے نام کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

آج ہم بات کریں گے ریحام خان کے بیان اور اس پر ردِ عمل کی اور اس کے بعد گورنر سندھ کے جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کے حوالے سے بیان کی۔

دہشت گردی اور ’سیاسی فائدے کے لیے حملہ‘

'پاکستان میں آج کوئی جماعت جمہوری نہیں ہے'

ریحام خان نے گذشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواتین کی سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے حوالے سے بیان دیا جس پر سوشل میڈیا پر شدید ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔ ریحام خان نے کہا کہ ’میرے پاس خواتین اور نوجوان آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتے۔‘

پی ٹی آئی کی رہنما ناز بلوچ نے ریحام خان کو مخاطب کر کے لکھا کہ ’ریحام بی بی، پی ٹی آئی کی تمام خواتین کارکن عزت دار ہیں اور انھیں آپ سے کردار کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں۔ اس طرح کے ہولناک تبصرے کرے سے پہلے سوچیں۔‘

پی ٹی آئی کی متعدد خواتین نے سوشل میڈیا پر ریحام خان پر تنقید کی اور ان سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا مگر چند ایسے بھی تبصرہ کرنے والے تھے جن کا کہنا تھا کہ ایسا تمام سیاسی جماعتوں میں ہونا یا نا ہونا الگ بحث ہے مگر سیاسی جماعتوں کو خواتین کے لیے اپنی صفوں میں مناسب جگہ پیدا کرنے اور ان کے کردار کو نمایاں کرنے کے حوالے سے بہت سارا کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ریحام خان نے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت جمہوری نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز میں جمہوریت نہیں ہے۔ کون سی سیاسی جماعت ہے جس میں آمریت نہیں ہے۔‘

’آمروں کو تو ہم بدنام کرتے ہیں کیا فرق ہے ان آمروں میں اور جمہوری سیاسی جماعتوں میں۔ جن نوجوانوں کو آپ دروازے کھکھٹانے کے لیے استعمال کرتے ہیں کبھی اوپر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے آپ نے؟ وہ خواتین جو آپ کے جلسوں کی رونق بنتی ہیں کبھی اوپر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔ کس قسم کی جمہوریت کی بات کر رہے ہیں پہلے اپنی صفوں میں جمہوریت پیدا کریں۔ پہلے حوصلہ پیدا کریں کہ کوئی آپ کو کہہ سکے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں جمہوریت۔ ‘

'جنرل راحیل ایک عام جرنیل تھے دوسرے جرنیلوں کی طرح'

گورنر سندھ محمد زبیر کی جانب سے گذشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کے دوران جنرل راحیل شریف کے حوالے سے دیا گیا بیان بہت سے حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ 'جنرل راحیل شریف ایک عام جرنیل تھے کسی بھی دوسرے جرنیل کی طرح ان کا حق ہے کہ انھیں زمین الاٹ کی جائے۔ انھیں ان کے قد سے زیادہ بڑا کر کے پیش نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے انھی کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔'

بہت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر محمد زبیر پر تنقید کی جا رہی ہے کہ کیا یہ سب ایک منظم مہم کا حصہ ہے کہ ایک جانب ایک سیاسی جماعت ایک فوج کے سربراہ کے خلاف بیان بازی کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب یہ بیان۔

محمد زبیر نے کراچی آپریشن کے حوالے سے بھی بات کی کہ اس کا کریڈٹ میاں نواز شریف کو جاتا ہے جس پر آصف خان نے لکھا کہ ’اس کا کریڈٹ صرف پاکستانی فوج کو جاتا ہے۔‘

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ذکر کریں گے صدف خان کا جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر خواتین کے حقوق کے حوالے سے بات کرتی ہیں۔ صدف میڈیا میں خواتین کے کردار اور ان کے مسائل پر بات کرتی ہیں اور اس حوالے سے کام کرتی ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ایک بچہ مردم شماری کی ٹیم کے ساتھ حفاظت پر مامور فوجی اہلکاروں کو چائے پیش کر کے حقِ مہمان نوازی ادا کر رہا ہے۔ ان دنوں سوشل میڈیا پر ایسے بہت سے میسیج گردش کر رہے ہیں جن میں مردم شماری کی ٹیموں کا خیال رکھنے انھیں پانی اور کرسی پیش کرنے کا لکھا ہوتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دنیا مافیہا سے بے خبر یہ بزرگ راولپنڈی کی ایک سڑک کے درمیان میں پڑے ہیں۔

اسی بارے میں